یقینی حل
Urdu book, p. 337
By Maulana Wahiduddin Khan
شدہ زندگی کو تلخ اور ناکام بنا کر رکھ دیتی ہے۔ گہرائی کے ساتھ دیکھا جائے تو وہ چیز جس کو ’’سسرال کا جھگڑا‘‘ کہا جاتا ہے وہ ایک مصنوعی مسئلہ ہے۔ یہ مسئلہ حقیقت سے زیادہ فرضی ہے۔ بدقسمتی سے ہمارا موجودہ معاشرہ ایک بے خبر معاشرہ ہے۔ معاشرہ مختلف صورتوں میں اس بے خبری کی قیمت ادا کر رہا ہے۔ اسی میں سے ایک قیمت وہ ہے جس کو ’’سسرال کا جھگڑا‘‘ کہا جاتا ہے۔ بعض تاریخی اسباب کی بنا پر ہمارے معاشرے کے افراد زیادہ تر خوش خیالیوں میں جی رہے ہیں۔ انھیں زندگی کی حقیقتوں کی خبر نہیں۔ اس بے شعوری کی قیمت ہمارے افرادِ زندگی کے ہر شعبہ میں ادا کر رہے ہیں۔ اور اسی کا ایک جزء وہ ہے جو سسرالی شکایتوں اور خاندانی جھگڑوں کی صورت میں ان کے حصہ میں آیا ہے۔ میکہ اور سسرال کا فرق ایک لفظ میں یہ ہے کہ۔ میکہ وہ گھر ہے جہاں ایک لڑکی اپنے ماں باپ کی محبت کی وجہ سے مقام حاصل کرتی ہے، اور سسرال وہ گھر ہے جہاں لڑکی خود اپنے عمل کی بنیاد پر اپنا مقام بناتی ہے۔ انھیں دو فقروں کے ذریعہ میکہ اور سسرال کے پورے معاملہ کو سمجھا جا سکتا ہے۔ لڑکی اپنے ماں باپ کا گوشت اور خون ہوتی ہے۔ وہ اس سے ہر حال میں محبت کرتے ہیں، خواہ وہ اچھی ہو یا بری، خواہ وہ کام والی ہو یا بے کام والی۔ اس کے والدین کو اس سے آرام ملے تب بھی وہ اس سے قدر و محبت کا معاملہ کرتے ہیں اور تکلیف ملے تب بھی۔ مگر سسرال کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ ایک لڑکی کا سسرال میں جانا اپنے غیر خونی رشتہ داروں میں جانا ہے۔ خونی رشتہ داروں میں اگر وہ ’’محبت برائے محبت‘‘ کے ماحول میں رہ رہی تھی تو غیر خونی رشتہ داروں کے درمیان اس کو ’’محبت برائے کردار‘‘ کے ماحول میں رہنا پڑتا ہے۔ پہلی جگہ اس کو یک طرفہ بنیاد پر محبت ملتی ہے اور دوسری جگہ دو طرفہ بنیاد پر۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader