یقینی حل
Urdu book, p. 338
By Maulana Wahiduddin Khan
جب ایک لڑکی کی شادی ہوتی ہے تو وہ اسی نازک امتحان میں داخل ہوتی ہے۔ شادی ایک لڑکی کے لیے ایسا ہی ہے جیسے ایک مچھلی جو پانی میں رہنے کی عادی ہو اس کو اچانک خشکی کا عادی بننے کے لیے پانی سے باہر ڈال دیا جائے۔ اگر لڑکی کو خوش قسمتی سے ایسے والدين ملے ہوں جو مذکورہ راز کو جانتے ہوں اور انھوں نے اپنی لڑکی کو پیشگی طور پر اس سے آگاہ کر دیا ہو تو لڑکی کا ذہن نئی صورت حال سے نمٹنے کے لیے تیار رہتا ہے۔ اسی طرح اگر لڑکی باشعور ہے تو وہ خود اس راز کو سمجھ لیتی ہے اور اپنے آپ کو نئے ماحول کے مطابق ڈھال لیتی ہے۔ کسی لڑکی کو اگر خوش قسمتی سے ان دونوں میں سے کوئی ایک چیز حاصل ہو جائے تو اس کے لیے شادی کے بعد کوئی مسئلہ پیدا نہیں ہوتا۔ اس کے لیے شادی کے دور میں داخل ہونا ایسا ہی ہوتا ہے جیسے کوئی شخص نیا موسم آنے کے بعد اپنے لباس کے معمولات کو بدل لے۔ ایسی لڑکی اپنے کردار کی بدولت دوبارہ اپنی سسرال میں وہی باعزت مقام حاصل کر لیتی ہے جو باعزت مقام اس سے پہلے وہ اپنے والدین کے گھر میں والدین کی محبت کی بدولت حاصل کیے ہوئے تھی۔ لیکن اگر ایسا ہو کہ نہ والدین زندگی کی اس حقیقت کو جانتے ہوں اور نہ لڑکی خود اتنی باشعور ہو کہ وہ اس کو جان کر اپنے آپ کو اس کے مطابق بنائے تو اس کے بعد وہ چیز وجود میں آتی ہے جس کو "سسرال کا جھگڑا کہا جاتا ہے۔ لڑکی سسرال کو اپنا گھر نہیں سمجھتی، اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ سسرال والے بھی اس کو اپنا فرد نہیں بنا پاتے۔ اس کی قیمت لڑکی کو یہ بھگتنی پڑتی ہے کہ وہ غیر ضروری طور پر سسرال میں کڑھتی رہے، وہ غیر واقعی طور پر اپنے آپ کو نفسیاتی عذاب میں مبتلا کیے ہوئے ہو۔ سسرال کا جھگڑا خود اپنی بے شعوری کی قیمت ہے جس کو نادان لڑکیاں سسرال کی طرف منسوب کر دیتی ہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader