یقینی حل
Urdu book, p. 339
By Maulana Wahiduddin Khan
بعض نادان لڑکیاں اس سے آگے تک جاتی ہیں۔ وہ اپنے میکہ جا کر وہاں اپنے والدین سے سسرال کی شکایتیں بیان کرتی ہیں۔ یہ شکایتیں اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے سراسر فرضی ہوتی ہیں۔ مگر کسی کا قول یہاں صادق آتا ہے کہ ”ہر باپ اپنی اولاد کے حق میں بیوقوف ہوتا ہے۔“ چنانچہ نادان والدین ان جھوٹی شکایتوں کو سچ سمجھ کر سسرال کے خلاف کبھی نہ ختم ہونے والی جنگ چھیڑ دیتے ہیں۔ مزید لطف یہ کہ اس جھوٹی جنگ کا بدترین انجام ہمیشہ ان لوگوں کے حصہ میں آتا ہے جنھوں نے یہ جنگ چھیڑی تھی۔ یعنی لڑکی اور اس کے والدین۔ اس کی سادہ سی وجہ یہ ہے کہ لڑکی کا مقابلہ ”عضو ضعیف“ ہے۔ اور یہ ایک ثابت شدہ حقیقت ہے کہ جب قوی اور ضعیف میں ٹکراؤ ہو تو اس کا نقصان ہمیشہ ضعیف کو اٹھانا پڑے گا۔ سسرال کے بارے میں لڑکیوں کی شکایت جھوٹی شکایت کیوں ہوتی ہے ۔ یہ جھوٹی شکایت اس لیے ہے کہ وہ ہمیشہ دوطرفہ سبب سے پیدا ہوتی ہے۔ مگر لڑکیاں ہمیشہ اس کو یک طرفہ بنا کر پیش کرتی ہیں۔ ایک ایسا مسئلہ جو دوطرفہ سبب سے پیدا ہوا ہو۔ اس کو یک طرفہ مسئلہ کی حیثیت سے پیش کرنا ہی اس مسئلہ کو جھوٹا بنا دیتا ہے۔ گاہک نے اگر قیمت ادا نہ کی ہو تو اس کو یہ کہنے کا کیا حق ہے کہ دکاندار نے سودا نہیں دیا۔ لڑکی اگر غیر جانبدارانہ انداز سے سوچ سکے تو وہ نہایت آسانی سے جان لے گی کہ سارے معاملہ کا خلاصہ صرف یہ ہے کہ لڑکی نے سسرال والوں کو وہ چیز نہیں دی جو سسرال والے اس سے چاہتے تھے، اس لیے سسرال والوں سے بھی اس کو وہ چیز نہیں ملی جو وہ ان سے پانا چاہتی تھی اور یقیناً پا سکتی تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ سسرال زندگی کی معلم ہے۔ ایک لڑکی کا سسرال میں جانا گویا ایک ایسی درس گاہ میں جانا ہے جہاں وہ زندگی کی حقیقتیں سیکھے۔ جہاں وہ ان رازوں کو جانے جو وہ میکہ کے مصنوعی ماحول میں نہیں جان سکی تھی۔ میکہ ایک لڑکی کے لیے مصنوعی دنیا ہے۔ اور سسرال اس کے لیے حقیقی دنیا۔ جو لڑکی اس راز کو نہ جانے وہ ہمیشہ اپنی زندگی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader