خاتونِ اسلام
Urdu book, p. 34
By Maulana Wahiduddin Khan
زمین پر جو بے مثال توازن قائم ہے اس کی ایک عجیب مثال وہ ننھی مخلوقات ہیں جن کو کیڑے مکوڑے کہا جاتا ہے، یہ کیڑے مکوڑے انسان کی طرح پھیپھڑے نہیں رکھتے۔ وہ نالیوں کے ذریعہ سانس لیتے ہیں۔ جب یہ کیڑے بڑے ہوتے ہیں تو ان کی یہ نالیاں ان کے جسم کی نسبت سے نہیں بڑھتیں۔ یہی وجہ ہے کہ کوئی کیڑا انچوں سے زیادہ آگے نہیں بڑھتا۔ اپنے اس ڈھانچہ کی وجہ سے کبھی کوئی کیڑا بڑے سائز کا نہیں ہوا۔ اسی نظام نے کیڑوں کو اس سے روکا کہ وہ دنیا پر چھا جائیں۔ اگر یہ طبعی روک نہ ہوتا تو زمین پر انسان کا وجود نا ممکن ہو جاتا۔ ایسے انسان کا تصور کیجیے جس کا مقابلہ ایسی بھڑ سے ہو جو شیر کے قدر بڑی ہو یا ایک ایسی مکڑی جو بڑھ کر عظیم الجثہ جانور کی مانند ہو گئی ہو: بعض لوگوں نے دنیا کے اس نظام پر اعتراض کیا ہے۔ مثلاً ایک مغربی مصنف نے لکھا ہے کہ زمین کی کشش ضرورت سے زیادہ ہے۔ چنانچہ دس کلو کا وزن لے کر چلنا بھی زمین کے اوپر مشکل ہو جاتا ہے۔ اگر زمین کی کشش کم ہوتی تو ہم دس کلو کا وزن با آسانی لے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader