Urdu book · خاتونِ اسلام

خاتونِ اسلام

Urdu book, p. 340

By Maulana Wahiduddin Khan

میں ناکام رہے گی اور جو لڑ کی اس راز کو جان لے وہ ہمیشہ اپنی زندگی میں کامیاب ہو گی ۔ کوئی بھی چیز اس کی کامیابی کو روکنے والی نہیں ۔ غیر مشترک نظام موجودہ زمانے کی لڑکیوں نے مشترک خاندانی نظام کو اپنے لیے مصیبت سمجھ کر اس کا بدل یہ تلاش کیا ہے کہ وہ شادی کے بعد اپنے شوہر کے ساتھ الگ رہیں۔ خاص طور پر تعلیم یافتہ لڑکیاں شادی کے بعد پہلی کوشش یہ کرتی ہیں کہ وہ اپنے شوہر کو اس پر راضی کریں کہ وہ اپنے ماں باپ سے جدا ہو جائے اور بیوی کو لے کر علاحدہ زندگی گزارے۔ یہ خیال بظاہر بہت اچھا معلوم ہوتا ہے۔ مگر ابتدائی کچھ دنوں کے بعد وہ عورت کے لیے ایک ایسا بوجھ ثابت ہوتا ہے جو مشترک زندگی سے بھی زیادہ مسائل اپنے ساتھ لیے ہوئے ہو۔ میں نے بہت سی لڑکیوں کو دیکھا ہے جنھوں نے ابتدائی جوش کے تحت اپنے شوہر کو اس کے والدین سے جدا کیا اور اس کو فتح“ کر کے علاحدہ رہنے لگیں۔ مگر آخر کار ان کے لیے زندگی ایک ایسا بوجھ ثابت ہوئی جس میں ان کا پورا وجود پس کر رہ گیا۔ مشترک زندگی میں ایک عورت صرف نفسیات کی قربانی دیتی ہے۔ مگر غیر مشترک زندگی میں اس کو اپنے پورے وجود کی قربانی دینی پڑتی ہے ، اور پہلی قربانی کے مقابلے میں دوسری قربانی بلا شبہ زیادہ سخت ہے۔ آرنلڈ ٹوائن بی نے اس کا اعتراف کیا ہے۔ اس نے جدید مغربی معاشرہ کا جائزہ لیتے ہوئے لکھا ہے کہ درمیانی درجہ کی خاتون نے تعلیم حاصل کی اور اپنے آپ کوروزگار کے قابل بنایا۔ مگر عین اسی وقت اس نے (جدید صنعتی نظام کے نتیجے میں ) اپنے گھریلو ملازموں کو کھو دیا ، رشتہ داروں کی بلا تنخواہ مدد جو مشترک خاندانی نظام میں اس کو مل رہی تھی اس سے بھی وہ ( غیر مشترک زندگی کی وجہ سے ) محروم ہوگئی۔ اس کے لیے صرف دو امکان باقی رہا۔ یا تو وہ بالکل گھر یلو خادمہ بن کر رہ جائے یا بیک وقت دو کام کا ناقابل برداشت بوجھ اٹھائے:

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page