ذہنی مسائل
Urdu book, p. 342
By Maulana Wahiduddin Khan
ہیں۔ بس یہیں سے بگاڑ کا آغاز ہو جاتا ہے۔ پچھلی بیوی کی اولاد اپنے آپ کو گھر کے اندر بے جگہ محسوس کرنے لگتی ہے۔ اب کشمکش شروع ہو جاتی ہے جو بعض اوقات ایسے نتائج تک پہنچ جاتی ہے جو دونوں میں سے کسی کے حق میں بھی مفید نہیں ہوتی۔ اس صورت حال کا حل نہایت آسان ہے۔ اور وہ ایک لفظ میں "وضع داری" ہے۔ جب بھی گھر کے اندر ایسی صورت حال پیش آئے تو عورت کو چاہیے کہ وہ اپنے دلی جذبات پر وضع داری کا پردہ ڈال لے۔ اس کے بعد ان شاء اللہ کوئی نزاکت پیدا نہ ہوگی۔ دوسری بیوی کو جاننا چاہیے کہ اگر وہ عام معاملات میں اپنی سگی اولاد کا بظاہر کم لحاظ کرے تو اس سے اس کی اولاد کے لیے کوئی مسئلہ پیدا نہیں ہوگا۔ کیوں کہ اولاد کے لیے سب سے بڑی چیز ماں ہوتی ہے اور وہ زندہ حالت میں پوری طرح اسے حاصل ہے۔ مگر پہلی بیوی کی اولاد اپنی ماں کی وفات کی وجہ سے احساس محرومی میں مبتلا رہتی ہے۔ اس لیے ظاہری معاملات میں اگر اس کا کچھ کم لحاظ کیا جائے تو اس کو فوراً اُس کا احساس ہوگا۔ اس کی یہ نفسیاتی حالت اس کو ذلت کے احساس میں مبتلا کر دے گی، اور اجتماعی زندگی میں کسی شخص کا احساس ذلت میں مبتلا ہونا ہمیشہ فساد پیدا کرنے کا سبب بنتا ہے۔ یہاں میں ایک عملی مثال دیتا ہوں، مولانا سید سلیمان ندوی (1953-1884ء) کی اہلیہ سلیمہ خاتون (1987-1905) مولانا مرحوم کی دوسری بیوی تھیں۔ 1923ء میں جب وہ شادی کے بعد مولانا مرحوم کے یہاں آئیں تو پچھلی بیوی سے ان کے یہاں ایک صاحبزادے تھے جن کا نام ابو سہیل تھا۔ سلیمہ خاتون جب کسی کو خط لکھتیں تو قدیم روایت کے مطابق اپنا نام نہ لکھتیں، بلکہ "والدہ ابو سہیل" لکھتیں۔ یہاں تک کہ خود ان کے یہاں اولاد ہوئی۔ وہ چار لڑکیاں اور ایک لڑکے کی ماں بن گئیں۔ مگر ان کی سابقہ وضع میں فرق نہیں آیا۔ وہ اپنی تحریروں میں بدستور "والدہ ابو سہیل"

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader