Urdu book · خاتونِ اسلام

ذہنی مسائل

Urdu book, p. 343

By Maulana Wahiduddin Khan

لکھتی رہیں۔ ان کے صاحبزادے ڈاکٹر سلمان ندوی بذات خود ایک مشہور شخصیت ہیں، مگر سلیمہ خاتون صاحبہ نے کبھی اپنے آپ کو ”والدہ سلمان“ نہیں لکھا۔ بلکہ ہمیشہ ”والدہ ابوسیہل“ لکھا۔ مرحومہ ایک دین دار خاتون تھیں۔ مولانا سید سلیمان ندوی کی وفات کے بعد وہ دنیا میں 34 سال تک رہیں مگر ان کی اس وضع داری میں کبھی کوئی فرق نہیں آیا (ماہنامہ معارف، اعظم گڑھ، اگست 1987، ”شذرات“)۔ سلیمہ خاتون مرحومہ کا وضع داری کا یہی رویہ گھر کی عام زندگی میں تھا۔ ہر ماں کی طرح انھیں بھی قلبی طور پر اپنی سگی اولاد سے زیادہ محبت ہوگی۔ مگر عام رویے میں انھوں نے کبھی اپنی اس قلبی حالت کو ظاہر ہونے نہیں دیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ابوسیہل صاحب اپنے سوتیلے بہن بھائی کے ساتھ بالکل سگے بھائی کی طرح رہے اور گھر کے اندر کبھی کوئی نزاکت پیدا نہیں ہوئی۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ تمام مسائل جن کو گھر یلو مسائل کہا جاتا ہے، وہ 99 فی صد محض نفسیاتی ہوتے ہیں۔ وہ ایک نفسیات کے تحت پیدا ہوتے ہیں اور دوسری نفسیات کے تحت انھیں ختم کیا جاسکتا ہے۔ ان کا حقیقی کے بجائے نفسیاتی ہونا نہایت آسانی کے ساتھ اس طرح معلوم کیا جاسکتا ہے کہ ایک ساس کو جب اپنی بہو سے کوئی شکایت پیدا ہو تو وہ سوچے کہ یہی کام اگر اس کی بیٹی کرتی، کیا تب بھی اس کو اس پر شکایت ہوتی۔ اسی طرح جب ایک بہو کو اپنی ساس سے کسی معاملہ میں شکایت ہو تو وہ سوچے کہ یہی معاملہ اگر ماں کی طرف سے پیش آیا ہوتا، کیا تب بھی وہ اس پر رنجیدہ ہو کر بیٹھ جاتی۔ ساس اور بہو اگر اس اعتبار سے غور کریں تو انھیں معلوم ہوگا کہ ان کی شکایت سراسر بے بنیاد تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ اس طرح کے تمام مسائل ذہن میں پیدا ہوتے ہیں اور ذہن ہی میں انھیں ختم کیا جاسکتا ہے۔ ذہن سے باہر نہ ان کا کہیں وجود ہے اور نہ ذہن سے باہر کہیں ان کو حل کرنے کی ضرورت۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page