تعددِ ازواج
Urdu book, p. 344
By Maulana Wahiduddin Khan
تعدد ازواج قرآن میں اجتماعی زندگی کے بارے میں جو احکام دیے گئے ہیں، ان میں سے ایک حکم وہ ہے جو تعدد ازواج (چار عورتوں تک نکاح کرنے) کے بارے میں ہے۔ اس سلسلے میں آیت کے الفاظ یہ ہیں: وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَى فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِنَ النِّسَاءِ مَثْنَى وَثُلَاثَ وَرُبَاعَ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تَعْدِلُوا فَوَاحِدَةً (4:3)۔ یعنی، اور اگر تم کو اندیشہ ہو کہ تم یتیم بچوں کے معاملہ میں انصاف نہ کر سکو گے تو (بیوہ) عورتوں میں جو تم کو پسند ہوں ان سے دو دو، تین تین، چار چار سے نکاح کر لو۔ اور اگر تم کو اندیشہ ہو کہ تم عدل نہ کر سکو گے تو ایک ہی نکاح کرو۔ یہ آیت غزوہ احد (شوال 3ھ) کے بعد اتری۔ اس کا شانِ نزول یہ ہے کہ اس جنگ میں 70 مسلمان شہید ہو گئے تھے۔ اس کی وجہ سے مدینہ کی بستی میں اچانک 70 گھر مردوں سے خالی ہو گئے۔ نتیجہ یہ صورتِ حال پیش آئی کہ وہاں بہت سے بچے یتیم اور بہت سی عورتیں بیوہ ہو گئیں ۔ اب سوال پیدا ہوا کہ اس معاشرتی مسئلہ کو کس طرح حل کیا جائے۔ اس وقت قرآن میں مذکورہ آیت اتری اور کہا گیا کہ جو لوگ استطاعت رکھتے ہوں وہ بیوہ عورتوں سے نکاح کر کے یتیم بچوں کو اپنی سرپرستی میں لے لیں۔ اپنے الفاظ اور اپنے شانِ نزول کے اعتبار سے بظاہر یہ ایک وقتی حکم نظر آتا ہے۔ یعنی اس کا تعلق اس صورت حال سے ہے جب کہ جنگ کے نتیجے میں آبادی کے اندر عورتوں کی تعداد زیادہ ہو گئی تھی اور مردوں کی تعداد کم۔ مگر قرآن اپنے نزول کے اعتبار سے زمانی ہونے کے باوجود، اپنے اطلاق کے اعتبار سے ایک ابدی کتاب ہے۔ قرآن کے اعجاز کا ایک

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader