خاتونِ اسلام
Urdu book, p. 345
By Maulana Wahiduddin Khan
پہلو یہ بھی ہے کہ وہ زمانی زبان میں ابدی حقیقت بیان کرتا ہے۔ اس کا یہ حکم بھی اس کی صفتِ خاص کا مظہر ہے۔ زیادہ شادی کا معاملہ صرف مرد کی مرضی پر منحصر نہیں۔ اس کی لازمی شرط (inescapable condition) یہ ہے کہ معاشرہ میں زیادہ عورتیں بھی موجود ہوں۔ اگر زمین پر ایک ہزار ملین انسان بستے ہوں، اور ان میں 500 ملین مرد ہوں اور 500 ملین عورتیں، تو ایسی حالت میں مردوں کے لیے ممکن ہی نہ ہوگا کہ وہ ایک سے زیادہ نکاح کریں۔ ایسی حالت میں ایک سے زیادہ نکاح صرف جبراً کیا جاسکتا ہے، اور جبری نکاح اسلام میں جائز نہیں۔ اسلامی شریعت میں نکاح کے لیے عورت کی رضامندی ہر حال میں ایک لازمی شرط کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس طرح عملی طور پر دیکھیے تو قرآن کے مذکورہ حکم کی تعمیل صرف اس وقت ممکن ہے جب کہ سماج میں وہ مخصوص صورت حال پائی جائے جو اُحد کی جنگ کے بعد مدینہ میں پائی جارہی تھی، یعنی مردوں اور عورتوں کی تعداد میں نابرابری۔ اگر یہ صورت حال نہ پائی جارہی ہو تو قرآن کا حکم عملاً ناقابل نفاذ ہوگا۔ مگر انسانی سماج اور انسانی تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ قدیم مدینہ کی صورت حال محض وقتی صورت حال نہ تھی، یہ ایک ایسی صورتِ حال تھی جو اکثر حالات میں زمین پر موجود رہتی ہے۔ مذکورہ ہنگامی حالت ہی ہماری دنیا کی عمومی حالت ہے۔ یہ قرآن کے مصنف کے عالم الغیب ہونے کا ثبوت ہے کہ اس نے اپنی کتاب میں ایک ایسا حکم دیا جو بظاہر ایک ہنگامی حکم تھا، مگر وہ ہماری دنیا کے لیے ایک ابدی حکم بن گیا۔ تعداد کی نابرابری اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ باعتبار پیدائش عورت اور مرد کی تعداد تقریباً یکساں ہوتی ہے، یعنی جتنے بچے تقریباً اتنی ہی بچیاں۔ مگر شرح اموات (mortality) کے جائزے سے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader