Urdu book · خاتونِ اسلام

تعدد کی نابرابری

Urdu book, p. 346

By Maulana Wahiduddin Khan

معلوم ہوا ہے کہ عورتوں کے مقابلے میں مردوں کے درمیان موت کی شرح زیادہ ہے۔ یہ فرق بچپن سے لے کر آخر عمر تک جاری رہتا ہے۔ انسائیکلو پیڈیا برٹینکا (1984) کے مطابق، عمومی طور پر، موت کا خطرہ عمر کے ہر مرحلہ میں، عورتوں کے لیے کم پایا گیا ہے اور مردوں کے لیے زیادہ : In general, the risk of death at any given age is less for اکثر حالات میں سماج کے اندر عورتوں کی تعداد کا زیادہ ہونا اور مردوں کی تعداد کا کم ہونا مختلف اسباب سے ہوتا ہے۔ مثلاً جب جنگ ہوتی ہے تو اس میں زیادہ تر صرف مرد مارے جاتے ہیں۔ پہلی عالمی جنگ (18-1914) میں آٹھ ملین سے زیادہ فوجی مارے گئے۔ شہری لوگ جو اس جنگ میں ہلاک ہوئے وہ اس کے علاوہ ہیں۔ یہ زیادہ تر مرد تھے۔ دوسری عالمی جنگ (45-1939) میں ساڑھے چھ کروڑ آدمی ہلاک ہوئے یا جسمانی طور پر ناکارہ ہوگئے۔ یہ سارے لوگ زیادہ تر مرد تھے۔ عراق - ایران جنگ (88-1979ء) میں ایران کی 86 ہزار عورتیں بیوہ ہوگئیں۔ عراق میں ایسی عورتوں کی تعداد تقریباً ایک لاکھ ہے جن کے شوہر اس دس سالہ جنگ میں ہلاک ہوئے۔ اسی طرح مثال کے طور پر جیل اور قید کی وجہ سے بھی سماج میں مردوں کی تعداد کم اور عورتوں کی تعداد زیادہ ہو جاتی ہے۔ امریکا کو موجودہ زمانہ میں دنیا کی مہذب ترین سوسائٹی کی حیثیت حاصل ہے۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ امریکا میں ہر روز تقریباً 13 لاکھ (1,300,000) آدمی کسی نہ کسی جرم میں پکڑے جاتے ہیں۔ ان میں سے ایک تعداد وہ ہے جو لمبی مدت تک کے لیے جیل میں ڈال دی جاتی ہے۔ ان سزا یافتہ قید یوں میں دوبارہ 97 فی صد مرد ہی ہوتے ہیں (انسائیکلوپیڈیا برٹینکا، 1102/14)

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page