Urdu book · خاتونِ اسلام

خاتونِ اسلام

Urdu book, p. 35

By Maulana Wahiduddin Khan

کہ اس پر چل سکتے تھے۔ مگر یہ ایک نادانی کا اعتراض ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسی کشش کی وجہ سے زمین پر ہمارے مکانات ٹھوس چٹان کی طرح قائم ہوتے ہیں۔ اگر زمین کی کشش کم ہوتی تو ہمارے مکانات کا غف کے گھروندوں کی طرح ادھر ادھر اڑنے لگتے اور زمین پر تہذیب کا قیام ناممکن ہو جاتا۔ خوش قسمتی سے کائنات کا نظام انسان کے ہاتھ میں نہیں ہے۔ ورنہ کوئی صاحب زمین کی کشش گھٹا کر زمین کے اوپر انسانی نسل کے استحکام کو ناممکن بنا دیتے۔ کوئی صاحب اٹھتے اور زمین اور سورج کے فاصلہ میں تبدیلی کرتے اور پھر یا تو ساری زمین کو برف کی طرح ٹھنڈا بنا دیتے یا آگ کی بھٹی کی طرح گرم۔ اسی طرح کوئی صاحب کہتے کہ کیڑوں کی نالیوں کا موجودہ نظام ان کے اوپر ظلم ہے۔ اس لیے ایسا ہونا چاہیے کہ جسم کے ساتھ ان کی نالیاں بھی بڑھتی رہیں اور اس کے بعد یہ حال ہوتا کہ ساری زمین بھینسوں اور ہاتھیوں جیسے بھیانک کیڑوں سے بھر جاتی۔ انسان بقیہ کائنات میں اس قسم کا بگاڑ پیدا کرنے پر قادر نہ تھا، اس لیے وہ کائنات کے نظام میں تبدیلی نہ کر سکا۔ البتہ خود اپنی دنیا میں عمل کے لیے وہ آزاد تھا۔ اس لیے یہاں اس نے دل کھول کر ہر قسم کا بگاڑ پیدا کیا حتیٰ کہ وہ صورت حال پیدا ہو گئی جس کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ أَيْدِي النَّاسِ (41: 30) - یعنی خشکی اور سمندر میں فساد ظاہر ہو گیا ان اعمال کے نتیجے میں جو انسان نے کیے ہیں۔ مرد اور عورت کا مسئلہ اس سلسلے میں مرد اور عورت کے تعلقات کے مسئلہ کو لیجیے۔ مرد اور عورت کا باہمی تعلق خدائی قانون میں تقسیم کار کے اصول پر قائم کیا گیا تھا۔ یعنی مرد باہر کا کام کرے اور عورت

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page