Urdu book · خاتونِ اسلام

خاتونِ اسلام

Urdu book, p. 352

By Maulana Wahiduddin Khan

دوسری عالمی جنگ میں یورپ کے کئی ملک لڑائی میں شریک تھے۔ مثلاً جرمنی، فرانس، انگلینڈ وغیرہ۔ ان میں مرد بڑی تعداد میں مارے گئے۔ چنانچہ جنگ کے بعد مردوں کے مقابلہ میں عورتوں کی تعداد بہت زیادہ ہوگئی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان ملکوں میں جنسی بے راہ روی عام ہوگئی۔ یہاں تک کہ بہت سی بے شوہر عورتوں کے گھروں کے سامنے اس قسم کے بورڈ لکھے ہوئے نظر آنے لگے— رات گزارنے کے لیے ایک مہمان چاہیے: Wanted an Evening Guest. یہ صورت حال مغرب میں جنگ کے بعد بھی مختلف صورتوں میں بدستور باقی ہے۔ اب اس کو باقی رکھنے کا سبب زیادہ تر صنعتی اور مشینی حادثات ہیں جس کی تفصیل اوپر درج کی گئی۔ غیر قانونی تعدد ازواج جن قوموں میں تعدد ازواج کو ناپسند کیا جاتا ہے، ان کو اس کی یہ قیمت دینی پڑی کہ ان کے یہاں اس سے بھی زیادہ ناپسندیدہ ایک چیز رائج ہوگئی جس کو مسٹریں (mistress) کہا جاتا ہے۔ ان قوموں کے لیے یہ ممکن نہ تھا کہ وہ اس فطری عمل کو روک سکیں جس کے نتیجے میں اکثر معاشرہ میں عورتوں کی تعداد از زیادہ اور مردوں کی تعداد کم ہو جاتی ہے۔ ایک طرف آبادی کے تناسب میں یہ فرق اور دوسری طرف تعدد ازواج پر پابندی، اس دوطرفہ مسئلہ نے ان کے یہاں مسٹریں کی برائی (بالفاظ دیگر، غیر قانونی تعدد ازواج) کو پیدا کر دیا۔ مسٹریں (mistress) کی تعریف ویبسٹرس ڈکشنری (Webster's Dictionary) میں یہ کی گئی ہے کہ وہ عورت جو کسی مرد سے جنسی تعلق رکھے، اس کے بغیر کہ اس سے اس کا نکاح ہوا ہو: “A woman who has sexual intercourse with and, often, is supported by a man for a more or less extended period of time without being married to him: paramour.”

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page