Urdu book · خاتونِ اسلام

خاتونِ اسلام

Urdu book, p. 353

By Maulana Wahiduddin Khan

(Webster's New Twentieth Century Dictionalry, 2nd Edition, “Mistress”) مسٹر لیس کا یہ طریقہ آج ، بشمول ہندوستان ، تمام ان ملکوں میں رائج ہے جہاں تعدد ازدواج پر قانونی پابندی ہے یا سماجی طور پر اس کو برا سمجھا جاتا ہے۔ ایسی حالت میں اصل مسئلہ یہ نہیں ہے کہ تعدد ازدواج کو اختیار کیا جائے یا نہیں ۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ آبادی میں عورتوں کی غیر متناسب تعداد کو کھپانے کے لیے قانونی تعدد ازدواج کا طریقہ اختیار کیا جائے یا غیر قانونی تعدد ازدواج کا۔ اسلامی طریقہ اس کے بعد وہ طریقہ ہے جو اسلامی شریعت میں اس مسئلہ کے حل کے لیے بتایا گیا ہے ۔ یعنی مخصوص شرائط کے ساتھ کچھ مردوں کے لیے ایک سے زیادہ نکاح کی اجازت۔ تعدد ازدواج کا یہ اصول جو اسلامی شریعت میں مقرر کیا گیا ہے ، وہ دراصل عورتوں کو مذکورہ بالا قسم کے بھیانک انجام سے بچانے کے لیے ہے۔ بظاہر اگر چہ یہ ایک عام حکم ہے ، لیکن اگر اس حقیقت کو سامنے رکھیے کہ عملی طور پر کوئی عورت کسی مرد کی دوسری یا تیسری بیوی بننے پر ہنگامی حالات ہی میں راضی ہو سکتی ہے ، نہ کہ معمول کے حالات میں ، تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے یہ حکم دراصل ایک سماجی مسئلہ کے حل کے طور پر وضع کیا گیا ہے ۔ وہ فاضل عورتوں کو جنسی آوارگی سے بچا کر معقول اور مستحکم خاندانی زندگی گزارنے کا ایک نظام ہے ۔ بالفاظ دیگر یہ یک زوجگی کے مقابلہ میں تعدد ازدواج کو اختیار کرنے کا مسئلہ نہیں ہے ۔ بلکہ تعدد ازدواج اور جنسی بربادی کے درمیان انتخاب کا مسئلہ پیدا ہونے کی صورت میں تعدد ازدواج کو اختیار کرنا ہے۔ تعدد ازدواج کے حکم کو اگر مجرد طور پر دیکھا جائے تو وہ ایک ایسا حکم معلوم ہوگا جو مردوں کی موافقت میں بنایا گیا ہو۔ لیکن اگر اس کو سماج کی عملی صورت حال کے اعتبار سے دیکھیے تو

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page