Urdu book · خاتونِ اسلام

اسلامی طریقہ

Urdu book, p. 354

By Maulana Wahiduddin Khan

وہ خود عورتوں کی موافقت میں ہے۔ وہ عورتوں کے مسئلہ کا ایک زیادہ معقول اور فطری بندوبست (arrangement) ہے، اس کے علاوہ اور کچھ نہیں۔ اسلام میں تعدد ازواج کی اجازت مردوں کی جنسی خواہش کی تکمیل کے لیے نہیں ہے۔ یہ دراصل ایک مسئلہ کو حل کرنے کی عملی تدبیر ہے۔ مردوں کے لیے ایک سے زیادہ نکاح کرنا اسی وقت ممکن ہوگا جب کہ آبادی میں مردوں کے مقابلے میں عورتیں زیادہ تعداد میں پائی جارہی ہوں۔ اگر عورتوں کی تعداد نسبتاً زیادہ نہ ہو تو اس حکم پر عمل کرنا سرے سے ممکن نہ ہوگا۔ پھر کیا اسلام مردوں کی خواہش کی تکمیل کے لیے ایک ایسا اصول بتا سکتا ہے جو سرے سے قابل حصول اور قابل عمل ہی نہ ہو۔ انسائیکلو پیڈیا برطانیکا (1984) نے بجاطور پر لکھا ہے کہ تعدد ازواج کے اصول کو اختیار کرنے کی ایک وجہ جنسی تناسب میں عورتوں کی زیادتی (surplus of women) ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جو قومیں تعدد ازواج کی اجازت دیتی ہیں یا اس کو پسند کرتی ہیں، ان میں بھی مردوں کی بہت بڑی اکثریت فاضل عورتوں کی محدود تعداد کی وجہ سے ایک ہی بیوی پر اکتفا کرتی ہے: “Among most people who permit or prefer it, the lare majority of men live in monogamy because of the limited number of women.” (Encyclopedia Britannica, VIII/97) اسلام میں ایک سے زیادہ بیوی رکھنے کی اجازت بطور آئیڈیل نہیں ہے۔ یہ در حقیقت ایک عملی ضرورت (practical reason) کی وجہ سے ہے، اور وہ یہ کہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ آبادی میں مردوں کے مقابلے میں عورتوں کی تعداد زیادہ ہوجاتی ہے۔ اس زیادہ تعداد کے باعزت حل کے لیے تعدد ازواج کا اصول مقرر کیا گیا ہے۔ یہ ایک عملی حل ہے، نہ کہ نظریاتی آئیڈیل۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page