Urdu book · خاتونِ اسلام

خلاصہ کلام

Urdu book, p. 355

By Maulana Wahiduddin Khan

خلاصۂ کلام اوپر جو بحث کی گئی، اس کا خلاصہ یہ ہے کہ ابتدائی پیدائش کے اعتبار سے مرد اور عورت اگرچہ یکساں تعداد میں پیدا ہوتے ہیں۔ مگر بعد کو پیش آنے والے مختلف اسباب کی بنا پر اکثر ایسا ہوتا ہے کہ معاشرے میں مردوں کی تعداد کم ہو جاتی ہے اور عورتوں کی تعداد زیادہ۔ سوال یہ ہے کہ اس مسئلہ کا حل کیا ہو۔ جنسی نابرابری کی ناگزیر صورت حال میں دونوں جنسوں کے درمیان صحت مند تعلق کس طرح قائم کیا جائے۔ یک زوجگی (ایک مرد، ایک عورت) کے اصول نکاح پر عمل کرنے کی صورت میں لاکھوں کی تعداد میں ایسی عورتیں باقی رہتی ہیں جن کے لیے معاشرے میں ایسے مرد موجود نہ ہوں جن سے وہ نکاح کا تعلق قائم کرکے باعزّت زندگی گزار سکیں۔ یک زوجگی کا مطلق اصول کسی کو بظاہر خوشنما نظر آسکتا ہے، مگر واقعات بتاتے ہیں کہ موجودہ دنیا میں وہ پوری طرح قابل عمل نہیں۔ گویا ہمارے لیے انتخاب (choice) ایک زوجہ اور متعدد زوجہ کے درمیان نہیں ہے۔ بلکہ خود متعدد زوجہ کی ایک قسم اور دوسری قسم کے درمیان ہے۔ اب ایک صورت یہ ہے کہ یہ " فاضل " عورتیں جنسی آوارگی یا معاشرتی بربادی کے لیے چھوڑ دی جائیں۔ دوسری صورت یہ ہے کہ وہ اپنی آزادانہ مرضی سے ایسے مردوں کے ساتھ ازدواجی رشتے میں وابستہ ہو جائیں جو ایک سے زیادہ بیویوں کے ساتھ عدل کر سکتے ہوں۔ مذکورہ بالا دو ممکن صورتوں میں سے اسلام نے دوسری صورت کا انتخاب کیا ہے۔ اور غیر اسلام نے پہلی صورت کا۔ اب ہر شخص خود فیصلہ کر سکتا ہے کہ دونوں میں سے کون سا طریقہ زیادہ باعزّت اور زیادہ معقول ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page