Urdu book · خاتونِ اسلام

حرف آخر

Urdu book, p. 356

By Maulana Wahiduddin Khan

حرف آخر جدید طبقہ مسلسل یہ مطالبہ کر رہا ہے کہ اسلام کے قانون معاشرت میں تبدیلی لائی جائے۔ دیندار طبقہ جب اس مطالبہ کو نہیں مانتا تو یہ کہا جانے لگتا ہے کہ اسلام زمانے کی ترقی کے ساتھ نہیں چل سکتا۔ کیوں کہ اس کے قانون میں تبدیلی قبول کرنے کی گنجائش نہیں۔ اس سلسلے میں یہاں ہم ایک مثال نقل کریں گے۔ مسٹر موہن گرو سوامی کا ایک مضمون ہندوستان ٹائمس (16 اپریل 1987) میں شائع ہوا ہے۔ اس میں وہ لکھتے ہیں: “Islam, instead of being a religion which is open to popular opinion, seems to have become a religion of laws impervious to change. The recent controversy on the payment of alimony and the rigid attitude displayed by most Islamic leaders in this country is yet another instance of this imperviousness to change.” (The Hindustan Times, New Delhi, April 6, 1987) اسلام، بجائے اس کے کہ وہ ایک ایسا مذہب ہو جو عوامی رائے کے لیے کھلا ہوا ہو، وہ بظاہر ایسا مذہب بن گیا ہے جس کے قوانین تبدیلی کو قبول نہ کریں۔ (مطلقہ کو) گزاره دینے کے مسئلہ پر حالیہ نزاع اور اس ملک کے اکثر اسلامی رہنماؤں کا جامد نقطہ نظر اختیار کرنا ایک اور مثال ہے کہ اسلام میں تبدیلی کو قبول کرنے کی صلاحیت نہیں (صفحہ 9) جو لوگ اس قسم کی باتیں لکھتے ہیں، ان کا تفصیلی مطالعہ کرنے کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ وہ محض سطحی طور پر ایسا لکھ دیا کرتے ہیں اس سلسلے میں بنیادی سوال یہ ہے کہ وہ کون سی دلیل ہے جو اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ اسلام کے قانون معاشرت میں تبدیلی لائی جائے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page