Urdu book · خاتونِ اسلام

خاتونِ اسلام

Urdu book, p. 357

By Maulana Wahiduddin Khan

یہ دلیل صرف دو ہو سکتی ہے۔ ثابت شدہ علم یا تجربہ۔ زیرِ نظر کتاب میں جو تفصیلی مواد جمع کیا گیا ہے اس سے دو اور دو چار کی طرح یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ مذکورہ دعوے کے حق میں نہ حقیقی معنوں میں کوئی علم ہے اور نہ کوئی قابلِ لحاظ انسانی تجربہ۔ اس کے برعکس، علم کے تمام متعلقہ شعبے اسلام کے قانون کی نظریاتی صحت ثابت کر رہے ہیں۔ اسی طرح موجودہ زمانے میں جو معاشرتی تجربہ کیا گیا ہے اس کے نتائج غیر اختلافی طور پر بتا رہے ہیں کہ اسلام کے قانونی تصورات عین درست ہیں اور ان کے بالمقابل جو نظریات موجودہ زمانے میں اختیار کیے گئے وہ اپنے نتائج کے اعتبار سے سخت ہلاکت خیز ہیں۔ ایسی حالت میں تبدیلی کا مطالبہ دوسروں سے کیا جانا چاہیے، نہ کہ اسلام سے۔ اصل مسئلہ باشعور بنانا ایک مصنف کے بارے میں اگر کہا جائے کہ وہ انسانیت کی زیادہ بڑی خدمت اس وقت انجام دے سکتا ہے جب کہ اس کو مطالعہ کے کمرہ سے نکال کر اکھاڑے کے میدان میں لایا جائے تو یہ ایک احمقانہ بات ہوگی۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان ایک صاحبِ شعور ہستی ہے۔ انسان کی ترقی کا انحصار اس پر ہے کہ وہ اپنے کو کتنا زیادہ باشعور بناتا ہے۔ نہ یہ کہ جسمانی طور پر وہ کس میدان میں اپنے آپ کو دوڑا رہا ہے۔ یہی بات مرد کے بارے میں صحیح ہے اور یہی بات عورت کے بارے میں بھی درست ہے۔ افریقہ میں کئی ملک ایسے ہیں جہاں مسلمانوں کی اکثریت ہے مگر عملاً وہاں کی سیاست اور تجارت پر عیسائی چھائے ہوئے ہیں۔ اس کی سادہ سی وجہ یہ ہے کہ عیسائی ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ قوم ہیں اور مسلمان ابھی تک تعلیم میں آگے نہ بڑھ سکے۔ عورت کو ترقی دینے کا اصل راز یہ نہیں ہے کہ اس کو زندگی کے ہر میدان میں داخل کیا جائے۔ بلکہ اس کا اصل راز یہ ہے کہ عورت کو صاحبِ علم اور صاحبِ شعور بنایا جائے۔ عورت

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page