Urdu book · خاتونِ اسلام

اصل مسئلہ با شعور بنانا

Urdu book, p. 358

By Maulana Wahiduddin Khan

جتنا زیادہ باشعور ہوگی اتناہی زیادہ بڑا کام وہ اس دنیا میں انجام دے سکے گی۔ عورت اگر حقیقی معنوں میں باشعور ہو تو گھر کے اندر رہ کر بھی وہ انتہائی بڑے بڑے کام انجام دے سکتی ہے۔ اور اگر وہ بے شعور ہو تو وہ کوئی بھی بڑا کام نہیں کر سکتی خواہ اس کو سب سے بڑے چورا ہے پر کیوں نہ کھڑا کر دیا گیا ہو۔ تاریخ میں ایسی بہت سی عورتیں گزری ہیں جو عملاً گھر کے اندر رہیں مگر باہر کی دنیا پر انھوں نے اپنے زبردست اثرات ڈالے۔ انھیں میں سے ایک نور جہاں ہے جو مغل حکمراں جہاں گیر کی بیوی تھی۔ جہاں گیر نے اس کے بیوہ ہونے کے بعد 1611ء میں اس سے شادی کی۔ قدیم رواج کے مطابق نور جہاں زیادہ تر شاہی محل کے اندر رہتی تھی۔ مگر تمام مورخین نے تسلیم کیا ہے کہ اس نے محل کے باہر کے امور میں جہاں گیر کے واسطے سے زبردست اثرات ڈالے۔ نور جہاں نے اگرچہ کئی حماقتیں کیں، اس کی سب سے بڑی حماقت یہ تھی کہ اس نے یہ کوشش کی کہ اس کا داماد (شہر یار) جہاں گیر کے بعد مغل تخت کا وارث ہو۔ جہاں گیر کے تین لڑکے تھے۔ ان میں شہزادہ خرم (شاہ جہاں) نہایت لائق تھا۔ چنانچہ جہاں گیر اسی کو اپنا سیاسی وارث بنانا چاہتا تھا۔ مگر نور جہاں نے سازش کی کہ جہاں گیر کا چھوٹا لڑکا شہر یار (جو نور جہاں کا داماد تھا) وہ جہانگیر کا وارث بنے۔ اس کے نتیجے میں آپس میں لڑائی ہوئی اور زبردست خرابیاں پیدا ہوئیں۔ تاہم اس خاص پہلو سے قطع نظر، نور جہاں کی مثال یہ ثابت کرتی ہے کہ عورت اگر لائق ہے تو وہ باہر کے امور پر کتنا زیادہ اثر انداز ہو سکتی ہے۔ نور جہاں کے بارے میں یہ ثابت شدہ ہے کہ وہ خاتون خانہ تھی، اس کے باوجود اس نے بیرونی کارنامے انجام دیے۔ نور جہاں کے بارے میں مورخین نے جو کچھ لکھا ہے ، ان میں سے صرف ایک اقتباس ہم یہاں نقل کریں گے۔ انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا (1984) کا مقالہ نگار لکھتا ہے:

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page