خاتونِ اسلام
Urdu book, p. 36
By Maulana Wahiduddin Khan
گھر کے اندر کے کام کو سنبھالے۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے: الرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِّسَاءِ (4: 34)۔ یعنی مرد عورتوں کے اوپر قوام ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ مرد عورتوں کے اوپر حاکم ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ گھر کے نظام میں وہ تمام کام جن کے لیے فعال صلاحیت درکار ہے، وہ سب مرد کے ذمہ ہیں۔ مثلاً کمانا، دفاع کرنا، بیرونی معاملات کا انتظام کرنا، حکومت چلانا وغیرہ۔ مردان کاموں کے لیے فطری طور پر زیادہ موزوں ہیں۔ اس لیے یہ سب کام انھیں کے ذمہ کیے گئے ہیں۔ "قوام" کا لفظ تقسیم عمل کی حکمت کو بتاتا ہے، نہ کہ ایک صنف پر دوسرے صنف کے امتیازی مرتبہ کو۔ اس کے برعکس، گھر کے اندرونی نظام کو سنبھالنے کا جو کام ہے اس کے لیے منفعل صلاحیتیں درکار ہیں۔ یہ صلاحیتیں عورت میں زیادہ ہیں۔ اس لیے اس کو گھر کے اندرونی کاموں کا انچارج بنایا گیا ہے۔ اسی تقسیم کار پر ہزاروں سال سے زندگی کا نظام چل رہا تھا۔ یورپ میں صنعتی انقلاب کے بعد پہلی بار وہ حالات پیدا ہوئے جب کہ یہ نظام ٹوٹنا شروع ہوا۔ قدیم زمانے میں کمانا نام تھا— شکار کرنے کا، کھیتی اور باغبانی کرنے کا، تجارتی سامان لاد کر بر و بحر کا مشکل سفر کرنے کا وغیرہ اس قسم کی پر مشقت کمائی صرف مرد ہی کر سکتے تھے، اس لیے عملاً اس کے سوا کوئی صورت ممکن نہ تھی کہ مرد کمائیں اور عورتیں گھر کے اندرونی نظام کو سنبھالیں۔ مگر یورپ میں صنعتی انقلاب نے بے شمار نئے نئے کام پیدا کر دیے جن کو کرنا کسی نہ کسی درجہ میں عورتوں کے لیے بھی ممکن تھا۔ یورپ میں پردہ کا نظام پہلے بھی موجود نہ تھا۔ چنانچہ عورتیں دفتروں اور کارخانوں میں پہنچ کر کام کرنے لگیں۔ اس طرح دھیرے دھیرے یہ صورت حال ختم ہونے لگی کہ کمائی کا انحصار صرف مرد پر ہو اور عورتیں کچھ نہ کر سکیں۔ جب

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader