تاریخ ساز کارنامہ
Urdu book, p. 360
By Maulana Wahiduddin Khan
یہ ایک معلوم واقعہ ہے کہ تیرہویں صدی عیسوی کے آغاز میں تاتاریوں (منگولوں) نے اسلامی سلطنت پر حملہ کیا اور اس کو آخری حد تک تباہ و برباد کر ڈالا۔ مگر اس کے بعد ایک تاریخی معجزہ پیش آیا۔ وہی لوگ جو اسلام کے سب سے بڑے دشمن تھے وہ اسلام قبول کر کے اس کے پاسبان بن گئے۔ انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا (1984) میں تاریخ اسلام کے مقالہ نگار نے لکھا ہے: “Ghazan Khan (reigned 1295-1340) was able to embrace Islam amid general acceptance by his army, and his successors were all Muslims. Within less than 40 years after Hulagu's terrible invasion. his descendants had become patrons of Muslim culture.” (Encyclopedia Britannica, 9/933) منگول حکمراں غازان خاں (زمانہ سلطنت 1304-1295) نے اسلام قبول کر لیا اور اس کے ساتھ اس کی تمام فوج نے بھی۔ اس کے بعد اس کے تمام جانشین مسلمان تھے۔ ہلاکو کے دہشت ناک حملہ کے 40 سال سے بھی کم عرصہ میں اس کی اولاد مسلم تہذیب کی سر پرست بن گئی۔ پروفیسر آرنلڈ نے لکھا ہے کہ منگول اور وحشی قبیلے جو ان کے ساتھ آئے تھے۔ انھوں نے آخر کار انھیں مسلمانوں کے مذہب کے آگے اپنے آپ کو جھکا دیا جن کو انھوں نے اس سے پہلے اپنے پیروں کے نیچے ڈالا تھا: “The Mongols and the savage tribes that follwed in their wake were at length brought to submit to the faith of those Muslim peoples whom they had crushed beneath their feet.” (Arnold, The Preaching of Islam, 1976, p. 229)

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader