Urdu book · خاتونِ اسلام

تاریخ ساز کارنامہ

Urdu book, p. 361

By Maulana Wahiduddin Khan

پروفیسر آرنلڈ نے تفصیل سے بتایا ہے کہ یہ دراصل عورتیں تھیں جو ان کے قبولِ اسلام کا سبب بنیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ اسلام کی اشاعت کا کام صرف مردوں ہی نے نہیں کیا ہے، بلکہ مسلمان عورتوں نے بھی اس مقدس کام میں حصہ لیا ہے کئی تاتاری شہزادے ایسے ہیں جنھوں نے اپنی مسلمان بیویوں کے اثر سے اسلام قبول کیا۔ غالباً یہی صورت بہت سے بت پرست ترکوں کے ساتھ پیش آئی جب کہ انھوں نے مسلم ملکوں پر حملہ کیا: "It is interesting to note that the propagation of Islam has not been the work of men only, but that Muslim women have also taken their part in this pious task. Several of the Monglo princes owed their conversion to the influence of a Muslim wife, and the same was probably the case with many of the pagan Turks when they had carried their raids into Muhammadan countries." (Arnold, The Preaching of Islam, 1976. p. 415) اس تاریخ ساز واقعہ کو ظہور میں لانے میں نہایت اہم حصہ مسلم خواتین نے ادا کیا ہے۔ تاتاریوں نے اسلامی خلافت کو برباد کیا تو انھوں نے پہلے قتل وغارت گری کی۔ اس کے بعد انھوں نے کثیر تعداد میں عورتوں کو گرفتار کر لیا اور ان کو اپنے گھروں میں بیوییاں بنا کر رکھا۔ چنانچہ اس واقعے کے بعد اکثر تاتاری فوجیوں یا ان کے سرداروں کے گھروں میں مسلم عورتیں موجود تھیں ۔ یہ مسلم عورتیں مذہبی جوش سے سرشار تھیں۔ اسلام کی حمایت کا جذبہ ان کے اندر شدت سے بھرا ہوا تھا۔ چنانچہ انھوں نے تاتاری مردوں پر خاموشی کے ساتھ اسلام کی تبلیغ کا کام شروع کر دیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ تاتاریوں کے دل اسلام کے حق میں نرم ہو گئے۔ اس کے بعد وہ یا تو گھر کی تبلیغ ہی سے مسلمان ہو گئے۔ یا ان کا حال یہ ہوا کہ باہر جب ان کا سابقہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page