Urdu book · خاتونِ اسلام

تاریخ ساز کارنامہ

Urdu book, p. 362

By Maulana Wahiduddin Khan

مسلمانوں سے پڑتا تو معمولی تلقین سے وہ اسلام قبول کر لیتے ۔ کیوں کہ ان کے دل میں پہلے ہی سے اسلام کا بیج پڑ چکا تھا۔ یہی اکثر تاتاریوں (منگول) کا حال ہوا۔ ان کا پہلا فرماں روا جو مسلمان ہوا وہ برکہ خان تھا۔ اس کا زمانہ حکومت 1256 سے لے کر 1267 تک ہے۔ برکہ خان کی ماں غالباً مسلمان تھی۔ اور اس نے برکہ خاں کی تربیت بچپن ہی سے ایک مسلمان کی طرح کی تھی۔ تخت نشینی کے بعد برکہ خاں کی ملاقات ایک مسلمان تاجر سے ہوئی۔ اس نے تاجر سے اسلام پر کچھ گفتگو کی اور پھر مسلمان ہو گیا۔ غازان خاں کا بھائی الجائنٹو 1340 میں اس کا جانشین ہوا۔ اس کی بیوی مسلمان تھی۔ کہا جاتا ہے کہ وہ اپنی بیوی کی ترغیب سے مسلمان ہو گیا۔ یہی صورت اکثر تاتاری سرداروں اور ان کے عام فوجیوں کے ساتھ پیش آئی۔ کسی تاتاری کی بیوی مسلمان تھی اور کسی تاتاری کی ماں مسلمان۔ ان مسلم خواتین نے تاتاریوں کے دلوں میں اس طرح اسلام کی عظمت بٹھائی کہ دھیرے دھیرے سب کے سب مسلمان ہو گئے۔ تقسیم کار کے اصول کے تحت اگرچہ عورت جسمانی طور پر زیادہ تر گھر کے دائرہ میں رہتی ہے۔ مگر ذہنی اور قلبی طور پر وہ اس مرد کی شریک کار ہوتی ہے جو گھر کے باہر نکلتا ہے اور باہر کے دائرہ کے کام انجام دیتا ہے۔ عورت کا تعلق مرد سے نہایت گہرا ہوتا ہے۔ وہ اس کی ساتھی، اس کی مشیر اور اس کی غم خوار ہوتی ہے۔ اس طرح وہ ہر لمحہ مرد کے تمام کاموں کے ساتھ وابستہ ہو جاتی ہے۔ عورت اگر گھر کے کاموں کی خود نگراں ہوتی ہے تو باہر کے کاموں کی وہ مرد کے واسطے سے نگرانی کرتی ہے۔ عورت کا تعلق دنیا کے ہر کام اور زندگی کی تمام سرگرمیوں سے ہے، 50 فی صد معاملات میں براہ راست طور پر اور بقیہ 50 فی صد معاملات میں بالواسطہ طور پر۔ زندگی میں عورت کے رول کا معاملہ بھی ویسا ہی ہے جیسا کہ مرد کا معاملہ۔ اس کا انحصار اس پر نہیں ہے کہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page