خاتونِ اسلام
Urdu book, p. 363
By Maulana Wahiduddin Khan
عورت کو جسمانی طور پر کہاں کھڑا کیا گیا ہے۔ بلکہ اس کا انحصار اس پر ہے کہ اس کو کتنا زیادہ باشعور بنایا گیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مرد اور عورت کا فرق مقام عمل کے اعتبار سے ہے، نہ کہ خود عمل کے اعتبار سے۔ عورت اپنی ذات میں ایک کمزور جنس ہے۔ مگر وہ طاقت ور جنس کی طاقت ہے۔ عورت کی اسی حیثیت میں اس کی طاقت کا راز چھپا ہوا ہے۔ معیار کی غلطی عورت اور مرد کے معاملہ کو اگر ’’تقسیم کار‘‘ کے عنوان کے تحت دیکھا جائے تو دونوں ایک دوسرے کے مساوی نظر آئیں گے۔ اس کے برعکس، اگر عورت اور مرد کے معاملہ کو’’ یکسانیت کار‘‘ کے عنوان کے تحت دیکھا جائے تو مرد برتر نظر آئے گا اور عورت کمتر کیوں کہ حیاتیات کے اعتبار سے دونوں کے درمیان یکسانیت ممکن نہیں۔ موجودہ زمانے میں مساوات مرد و زن کے حامیوں نے جب یہ دیکھا کہ عورت اور مرد کے درمیان حیاتیاتی فرق ہے اور اس بنا پر عورت کا یکساں عمل کے معیار پر پورا اترنا ممکن نہیں، تو انھوں نے اپنے معیار پر نظر ثانی کرنے کے بجائے یہ کیا کہ اپنی ناکامی کی بے اصل توجیہات تلاش کرنے لگے۔ اگر وہ اپنے معیار پر نظر ثانی کرتے تو صرف ان کے مقرر کردہ معیار پر زد پڑتی۔ مگر جب انھوں نے اپنے معیار پر نظر ثانی نہیں کی تو اس کا شکار خود عورت کو ہونا پڑا۔۔ مثلاً ایک گروہ وہ ہے جو اس واقعہ کی توجیہ ڈارونزم کی روشنی میں کرتا ہے۔ اس کا کہنا ہے ۔ عورتیں ارتقاء کے عمل میں ابتدائی درجہ پر باقی رہ گئیں۔ جیسا کہ ڈارون نے کہا ہے کہ مرد بالآخر عورت کے اوپر فائق ہو گیا : “Women remained at a more primitive stage of evolution. As Darwin himself put it, “Man has ultimately become superior to woman.” (Time, 3 March 1987, p. 42)

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader