خاتونِ اسلام
Urdu book, p. 37
By Maulana Wahiduddin Khan
عورتیں خود کفیل ہوئیں تو اس کے ساتھ ان کے اندر یہ ذہن بھی پیدا ہوا کہ وہ مردوں کی پابندی سے نکلیں اور اپنے لیے آزاد اور مستقل زندگی بنائیں ۔ اس طرح وہ تحریک پیدا ہوئی جس کو آزادی نسواں (Women's Liberation) کی تحریک کہا جاتا ہے۔ آزادی نسواں کی تحریک کے صنعتی انقلاب سے وابستہ ہونے ہی کا یہ نتیجہ ہے کہ یہ تحریک اولاً انھیں ملکوں میں شروع ہوئی جہاں سب سے پہلے صنعتی انقلاب آیا تھا۔ چنانچہ آزادی نسواں کی تاریخ بتاتی ہے کہ وہ سب سے پہلے انگلینڈ میں شروع ہوئی۔ عورتوں کے لیے برابری کے حقوق کا مطالبہ کرنے والی پہلی قابل ذکر کتاب لندن سے چھپی جس کا نام یہ تھا: A Vindication of the Rights of Woman by Mary Wollstonecrft (1792) امریکہ میں صنعتی انقلاب دیر سے آیا۔ اس لیے امریکہ میں آزادی نسواں کی تحریک انیسویں صدی میں شروع ہو سکی۔ صنعتی انقلاب کی ترقی کے ساتھ آزادی نسواں کی تحریک بھی ترقی کرتی رہی۔ یہاں تک کہ بیسویں صدی میں پہنچ کر وہ اپنے آخری کمال تک پہنچ گئی۔ آزادی نسواں کے علم برداروں کے دلائل کا خلاصہ یہ تھا کہ قدیم سماجوں میں عورت اور مرد کے درمیان جو فرق تھا اس کا سبب فطرت میں نہ تھا بلکہ سماج میں تھا۔ عورت ہر وہ کام کر سکتی ہے جو مرد کر سکتا ہے یا کر سکتا ہے۔ مگر قدیم سماجی حالات نے عورت کو ابھرنے کا موقع نہیں دیا۔ اگر یہ سماجی دباؤ ختم کر دیا جائے تو عورت ہر میدان میں مرد کے شانہ بشانہ کام کرے گی۔ وہ کسی اعتبار سے مرد کے پیچھے نہیں رہے گی۔ اس تحریک کو اب پورے دوسو برس ہو چکے ہیں۔ جدید ترقی یافتہ ممالک میں وہ اس مقصد میں پوری طرح کامیاب ہو چکی ہے کہ وہاں وہ سماجی حالات باقی نہیں ہیں جو اس تحریک کے علم برداروں کے نزدیک عورت کی مساویانہ حیثیت کو حاصل کرنے میں رکاوٹ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader