Urdu book · خاتونِ اسلام

خاتونِ اسلام

Urdu book, p. 38

By Maulana Wahiduddin Khan

تھے۔ ہر ملک میں برابری کے قوانین بنائے جا چکے ہیں قانون یا رواج کے اعتبار سے آج عورت کی راہ میں مطلق کوئی رکاوٹ باقی نہیں ہے۔ اس کے باوجود عورت ابھی تک مرد سے پیچھے ہے۔ وہ کسی بھی شعبہ میں مرد کی برابری حاصل نہ کر سکی۔ انسائیکلو پیڈیا برطانیہ (1984) نے جدید معاشرہ میں عورت کے بارے میں جو کچھ لکھا ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ اقتصادی میدان میں گھر سے باہر کام کرنے والی عورتیں بہت زیادہ تعداد میں کم تنخواہ والے کاموں میں ہیں۔ اور ان کا درجہ سب سے نیچا ہے۔ حتیٰ کہ عورتیں ایک ہی کام میں مرد سے کم تنخواہ پاتی ہیں۔ امریکہ میں خاتون کارکنوں کی اوسط تنخواہ مردوں کے مقابلہ میں 20 فیصد ہے جاپان میں یہ اوسط 55 فیصد ہے۔ سیاسی طور پر عورتیں بہت بڑے پیمانے پر نمائندگی سے محروم ہیں۔ قومی اور مقامی حکومتوں میں نیز سیاسی پارٹیوں میں: “In the economic sphere women who work outside the home are heavily concentrated in the lowest paying work and that having the lowest status. Women also earn less than men in the same kinds of jobs. The median pay of women workers in the U.S. was 60 percent that of men in 1982. In Japan the percentage of average pay was 55. Politically, women are greatly underrepresented in national and local government and in political parties.” (Encyclopedia Britannica, X/732). آج قدیم طرز کی سماجی حد بندیاں ٹوٹ چکی ہیں۔ ہر ملک میں برابری کے قوانین بن گے ہیں۔ اس کے باوجود جد ید عورت کو مرد کے مقابلہ میں بدستور کم درجہ حاصل ہے۔ وہ کسی بھی شعبہ میں مرد کے برابر درجہ حاصل نہ کر سکی۔ یہ صورت حال بتاتی ہے کہ عورت اور مرد کی حالت میں فرق کی وجہ وہ نہ تھی جس کو آزادی نسواں کے علم برداروں نے سمجھ لیا تھا۔ اگر وہ وجہ ہوتی تو اب بیسویں صدی کے نصف آخر میں عورت کو کامل طور پر مرد کے برابر درجہ مل

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page