خاتونِ اسلام
Urdu book, p. 53
By Maulana Wahiduddin Khan
اس طرح کے معاملات میں اگر ملزم وہ شخص ہو جو خاتون کارکن کا افسر ہے تو شکایت کرنے کی سزا خاتون کارکن کو یہ ملتی ہے کہ اس کے اوپر کام کا بوجھ بڑھا دیا جاتا ہے۔ اس کے کام کو بے قیمت کیا جاتا ہے اور طرح طرح سے پریشان کیا جاتا ہے۔ چنانچہ بہت سی عورتیں عدالت میں جانے کے بجائے ملازمت چھوڑ دیتی ہیں۔ (انڈین ایکسپریس 13 اگست 1986) امریکا کے دفاتر میں خاتون کارکنوں کا یہ حال اس کے باوجود ہے کہ وہاں دونوں جنسوں کو مساوی درجہ دینے کے بارے میں باقاعدہ قوانین بنے ہوئے ہیں۔ خاتون کارکنوں کو نہ ستانے کے بارے میں بھی قوانین موجود ہیں۔ اس کے باوجود امریکی دفاتر میں عورت مظلوم بنی ہوئی ہے۔ اس کی مجبوری یہ ہے کہ وہ شوہر اور ماں اور باپ کو پہلے ہی چھوڑ چکی ہے۔ اب اگر وہ دفتر کو بھی چھوڑ دے تو کہاں جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ مغربی عورت کی یہ مجبوری نہ ہو تو مغربی دفاتر عورتوں سے خالی نظر آنے لگیں۔ مغربی دفاتر میں خاتون کارکنوں کا یہ حال اتفاقی نہیں اور نہ کسی بھی قانون کے ذریعہ اس کو ختم کیا جاسکتا ہے۔ یہ مسئلہ اس سے زیادہ بڑا ہے کہ کوئی قانون اس کی روک تھام کرسکے۔ چڑیا اور بیل کو مساوی قرار دینے کے لیے آپ دونوں کو یکساں طور پر مقابلے کے میدان میں اتار دیں اور اس کے بعد چڑیا کچل اٹھے تو کیا اس ’’ظلم‘‘ کو قانون کے ذریعہ روکا جاسکتا ہے۔ کیا ایسا کوئی قانون بنانا ممکن ہے کہ چڑیا اور بیل دونوں ٹکرائیں اس کے باوجود چڑیا کو کوئی گزند نہ پہنچے۔ حقیقت یہ ہے کہ مرد کو قدرت نے صنف قوی بنایا ہے اور عورت کو صنف نازک یہ فرق دونوں کے اس کام کی نوعیت کے اعتبار سے ہے جو قدرت دونوں سے الگ الگ لینا چاہتی ہے۔ دونوں کے تقسیم عمل میں تبدیلی فطرت کی خلاف ورزی ہے اور فطرت کی خلاف ورزی سے جو مسائل پیدا ہوں، ان کا حل دوبارہ فطرت سے مطابقت ہے۔ فطرت کی خلاف

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader