Urdu book · خاتونِ اسلام

خاتونِ اسلام

Urdu book, p. 54

By Maulana Wahiduddin Khan

ورزی کو باقی رکھتے ہوئے ان کو کسی بھی طرح حل نہیں کیا جاسکتا۔ پھول کو اگر آپ گلدستہ میں لگائیں تو وہ ایک اونچی سطح پر اپنے لیے باعزت جگہ پالے گالیکن اگر آپ پھول کو میز کے پاپے کے نیچے رکھنے لگیں تو وہ کچل کچرمٹی میں مل جائے گا۔ ایسا ہی کچھ معاملہ مرد اور عورت کا ہے۔ عورت کو اگر گھر کے اندر رکھا جائے تو وہ بہن اور بیوی اور ماں کی حیثیت سے نہایت باعزت جگہ کی مالک بنے گی۔ لیکن اگر اس کو گھر سے نکال دیا جائے اور باہر کی دنیا میں اس کو مردوں کے ” دوش بدوش “ کھڑا کر دیا جائے تو اس کا وہی انجام ہوگا جو مغربی دنیا میں اس کے نتیجے میں عورت کا ہو چکا ہے۔ عورت کا صنف نازک ہونا گھر کے اندر اس کو گھر کی ملکہ بناتا ہے، عورت کا صنف نازک ہونا گھر کے باہر کی زندگی میں اس کو مظلوم اور حقیر بنا دیتا ہے۔ ایڈز کی لعنت فطرت کی خلاف ورزی سے کیسے سنگین نتائج برآمد ہوتے ہیں اس کی ایک تازہ مثال وہ بیماری ہے جس کو ایڈز کہا جاتا ہے۔ ایڈز فطرت کی خلاف ورزی کی سزا ہے۔ چنانچہ یہ ثابت ہو چکا ہے کہ یہ مرض غلط عادتوں، خاص طور پر ہم جنسی کے فعل کے سبب سے پیدا ہوتا ہے: “The group of people who run the high-risk of contracting the disease are promiscuous homosexuals, bisexual men, intravenous drug-abusers and those having multiple sexual partners. Its highest incidence is among male homosexuals.” ایڈز (AIDS) ایک اشاراتی نام ہے۔ یہ لفظ حسب ذیل انگریزی فقرہ کا مخفف ہے: Acquired Immune Deficiency Syndrome

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page