Urdu book · خاتونِ اسلام

خاتونِ اسلام

Urdu book, p. 60

By Maulana Wahiduddin Khan

موضوع پر رائے شماری ہوتی تو ممبران کی اکثریت نے اس کے حق میں رائے دی کہ جو ہم جنس جوڑے اس کا ثبوت دے دیں کہ وہ ایک ساتھ رہتے ہیں وہ ایک دوسرے کی وارث میں میاں بیوی کی طرح حصہ دار قرار پائیں گے : “Denmark has granted homosexual and lesbian couples the same rights of inheritance as married couples, reports Reuter. The Danish parliament on Friday voted by 78 votes to 62 in favour of a law granting inheritance rights to couples who can prove they are living together. The new inheritance rights will also apply to brothers and sisters who share a home." (The Times of India, New Delhi, June 1, 1986) موجودہ زمانے میں آزادی کے لامحدود تصور نے جو خرابیاں پیدا کی ہیں۔ ان میں سے ایک یہ ہم جنسی ہے۔ قدیم زمانے سے یہ طریقہ چلا آرہا تھا کہ ایک مرد اور عورت نکاح کے رشتہ میں بندھ کر باہم ازدواجی تعلق قائم کرتے تھے۔ موجودہ زمانے میں پہلے نکاح کے رشتہ کو غیر ضروری قرار دیا گیا۔ اس کے بعد لوگوں کی آزاد مزاجی یہاں تک بڑھی کہ انھوں نے کہا کہ ازدواجی تعلق کے لیے مخالف جنس کا ہونا ضروری نہیں ہے۔ مردم د اور عورت عورت بھی ایک دوسرے سے جنسی تعلق قائم کر سکتے ہیں۔ اس کو موجودہ زمانے میں خوبصورت طور پر جنسی اختیار (sexual preference) کا نام دیا گیا۔ مگر نتائج نے بہت جلد بتایا کہ فطرت کے نظام سے انحراف ہمیشہ فساد پیدا کرتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا میں آدمی کے لیے ایک ہی صحیح راستہ ہے۔ یہ کہ وہ پیغمبروں کے بتائے ہوئے نظام فطرت پر عمل کرے ۔ اگر اس نے اس سے انحراف کیا تو وہ کسی حال میں اس کے برے انجام سے اپنے آپ کو بچا نہیں سکتا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page