Urdu book · خاتونِ اسلام

خاتونِ اسلام

Urdu book, p. 61

By Maulana Wahiduddin Khan

مغرب کو فطرت سے انحراف کی بیک وقت دو قیمت دینی پڑی۔ ایک یہ کہ اس نے صنف نازک کو صنف قوی کے میدان میں کھڑا کر کے یہ کیا کہ صنف نازک کو مستقل طور پر کم تر حیثیت میں پہنچا دیا۔ امریکہ میں قانون کے اعتبار سے عورت کو مکمل مساوات کا درجہ حاصل ہے۔ مگر قانونی مساوات ابھی تک عملی مساوات کی صورت اختیار نہ کر سکی۔ ایلن گڈمین (Ellen Goodman) کے الفاظ میں، امریکی خواتین ابھی تک مساوی درجہ پانے کا انتظار کر رہی ہیں۔ We're still waiting for equal status (Time, July 1987, p.45) امریکہ کی خاتون پروفیسر ڈاکٹر مانٹ گومری (Dr Louise F. Montgomery) نے جو بات امریکی صحافت میں عورت کے درجہ کے بارے میں کہی، وہی بات امریکی زندگی کے تمام شعبوں میں عورت کے درجہ کے بارے میں صحیح ہے۔ انھوں نے کہا: "Women in the United States remain in the lower ranks in the newspaper hierarchy. Even in TV news programmes, the leaders who influence Americans are males." (The Hindustan Times, New Delhi, August 23, 1986 p. 3) امریکہ کی اخباری دنیا میں عورتیں اب بھی نچلے درجہ سے تعلق رکھتی ہیں۔ حتی کہ ٹی وی خبروں کے پروگرام میں جو لوگ لیڈر ہیں اور امریکنوں پر اثر انداز ہوتے ہیں وہ مرد ہی ہیں۔ عورت کے معاملہ میں فطرت سے انحراف کا دوسرا نقصان جدید ترقی یافتہ ملکوں کو یہ ملا کہ ان کا پورا معاشرہ جنسی آوارگی کا شکار ہو گیا اور اس کے نتیجہ میں اتنے بے شمار مسائل پیدا ہو گئے جن کا شمار بھی آسان کام نہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page