خاتونِ اسلام
Urdu book, p. 62
By Maulana Wahiduddin Khan
عورت معاشرہ میں قدیم معاشروں میں تقریباً ساری دنیا میں یہ صورت حال تھی کہ عورت کو مرد کے مقابلے میں کم تر درجہ حاصل تھا۔ قدیم یونان میں، انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا (1984) کے الفاظ میں، عورت کا مرتبہ اتنا گرا دیا گیا تھا کہ اس کی حیثیت بچہ پالنے والی غلام کی ہو کر رہ گئی تھی۔ عورتوں کو ان کے گھروں میں بند کر دیا گیا تھا۔ وہ تعلیم سے محروم تھیں۔ ان کا کوئی حق نہ تھا۔ ان کے شوہر ان کو بس گھر کے سامان ہوں میں سے ایک سامان سمجھتے تھے: “In Athens, woman's status had degenerated to that of slaves. Wives were secluded in their homes, had no education and few rights, and were considered by their husbands no better than chattels.” قدیم روم میں ایک عورت کی قانونی حیثیت کامل محکومی تھی۔ اولاً وہ اپنے باپ یا بھائی کی محکوم ہوتی تھی اور بعد کو اپنے شوہر کی۔ شوہر کو اپنی بیوی کے اوپر پدرانہ اختیار حاصل ہوتا تھا۔ قانون کی نظر میں عورت ضعیف العقل شمار ہوتی تھی : “In ancient Rome, a woman's legal position was one of complete subordination, first to the power of her father or brother and later to that of her husband, who held paternal power over his wife. In the eyes of the law, women were regarded as imbeciles.” (Encyclopedia Britannica, 19/909) عیسائیت نے بھی صورت حال کو کچھ بہتر نہیں بنایا۔ ہر معاملہ میں، حتیٰ کہ مذہبی معاملہ میں بھی عورت کو کم تر درجہ دیا گیا۔ کرنتھیوں کے نام، پولس رسول، کے پہلے خط میں درج

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader