خاتونِ اسلام
Urdu book, p. 63
By Maulana Wahiduddin Khan
ہے: پس فرشتوں کے سبب سے عورت کو چاہیے کہ اپنے سر پر محکوم ہونے کی علامت رکھے ۔ (گنتی 1۔ کرنتھیوں ، 10:11) قدیم زمانے میں عورت کے ساتھ غلط سلوک کی وجہ وہی تھی جو دوسرے معاملات میں قدیم انسان کے یہاں پائی جاتی ہے۔ یعنی توہماتی عقائد قدیم زمانے میں ہر معاملے میں انسان نے کوئی نہ کوئی بے بنیاد عقیدہ (irrational belief) قائم کر لیا تھا۔ یہی بے بنیاد عقائد قدیم لوگوں کے لیے مذہب کی حیثیت رکھتے تھے اور انھوں نے سارے انسانی سلوک کو بگاڑ رکھا تھا۔ مثلاً قدیم یونانیوں نے عورت کے بارے میں عجیب وغریب طور پر یہ عقیدہ بنا لیا تھا کہ اس کے منہ میں کم دانت ہوتے ہیں۔ برٹرینڈ رسل نے اس کا مذاق اڑاتے ہوئے لکھا ہے ۔ ارسطو نے دعویٰ کیا کہ عورتوں کے دانت مردوں سے کم ہوتے ہیں۔ اگرچہ اس نے دو بار شادی کی مگر ایسا کبھی نہیں ہوا کہ وہ اپنی بیویوں کے منہ کی جانچ سے اپنے اس بیان کی تصدیق کرے : “Aristotle maintained that women have fewer teeth than men; although he was twice married, it never occurred to him to verify this statement by examining his wive's mouths." (The Impact of Science on Society, 1976, p. 17) اسی طرح عیسائیت نے عورت کے بارے میں یہ غلط عقیدہ بنا لیا کہ وہ آدم کو جنت سے نکالنے کی ذمہ دار ہے۔ عیسائیت میں عورتوں کو بہکانے والی کی نظر سے دیکھا گیا جو کہ آدم کے ہبوط کی ذمہ دار تھی۔ اور وہ دوسرے درجہ کی حیثیت رکھتی تھی : "(In Christianity), they were regarded as temptresses,

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader