خاتونِ اسلام
Urdu book, p. 64
By Maulana Wahiduddin Khan
responsible for the fall of Adam, and as second class human beings." (Encyclopedia Britannica, 19/909) عورت کا درجہ اسلام میں قدیم دنیا میں مختلف تو ہماتی خیالات کے تحت عورت کو حقیر سمجھ لیا گیا تھا۔ اس کے نتیجے میں عورت کو جن حقوق سے محروم کیا گیا ان میں سے ایک جائیداد کا حصہ تھا۔ خاندان کی جائیداد میں عورت کا حصہ ختم کر دیا گیا۔ یہ اسلام تھا جس نے تاریخ میں پہلی بار باقاعدہ طور پر عورتوں کا وراشتی حصہ مقرر کیا۔ جے ایم رابرٹس نے لکھا ہے: "Its coming was in many ways revolutionary. It kept women, for example, in an inferior position, but gave them legal rights over property not available to women in many European countries until the nineteenth century. Even the slave had rights and inside the community of the believers there were no castes nor inherited status. This revolution was rooted in a religion which—like that of the Jews—was not distinct from other sides of life, but embraced them all." (J. M. Rober, The Pelican History of the World, New York, 1984, p. 334) اسلام کی آمد بہت سے پہلوؤں سے انقلابی تھی۔ مثال کے طور پر اس نے عورتوں کو اگرچہ کم درجہ دیا مگر اس نے عورتوں کو جائیداد پر قانونی حق دیا جو کہ یورپ کے اکثر ملکوں کی عورتوں کو 19 ویں صدی عیسوی تک بھی حاصل نہ ہو سکا تھا۔ حتی کہ غلام بھی حق رکھتے تھے اور اہل ایمان کی جماعت کے اندر نہ ذات پات تھی اور نہ پیدائشی درجات۔ اس انقلاب کی جڑیں ایک ایسے مذہب میں جمی ہوئی تھیں جو کہ یہود کی مانند صرف دوسری زندگی سے تعلق

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader