Urdu book · خاتونِ اسلام

خاتونِ اسلام

Urdu book, p. 65

By Maulana Wahiduddin Khan

نہیں رکھتا تھا بلکہ سب کچھ اپنے اندر سمیٹے ہوئے تھا۔ دہلی ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ چیف جسٹس مسٹر راجندر سچر نے یہی بات قدیم ہندوستان کے حوالہ سے کہی۔ نئی دہلی کی ایک تقریب میں مسٹر جسٹس سچر نے کہا کہ تاریخی طور پر اسلام عورتوں کو جائیداد کے حقوق دینے میں بہت زیادہ فراخ دل اور ترقی پسند رہا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ 1956 میں ہندو کوڈ بننے سے پہلے ہندو عورتوں کا جائیداد میں کوئی حصہ نہ تھا، جبکہ اسلام مسلم عورتوں کو یہ حقوق 1400 سال پہلے دے چکے تھے۔ "Mr. Justice Sachar said that historically Islam had been very liberal and progressive in granting property rights to women. The fact that there were no property rights t Hindu women untill 1956 when the Hindu Code Bill was passed whereas Islam had granted these rights to Muslim women over 1400 years ago." (The Statesman, Delhi, April 26, 1986) تاہم یہ صرف پہلے اور بعد کی بات نہیں ہے۔ اصل یہ ہے کہ اسلام نے عورتوں کے حقوق کا دروازہ کھولا ہے۔ قدیم زمانے میں تقریباً تمام سماجوں کا یہ حال تھا کہ ان کے یہاں عورتوں کو کوئی متعین حق حاصل نہ تھا۔ اسلام کے ذریعہ انسانی تاریخ میں جو انقلاب آیا۔ اس کا ایک خاص پہلو یہ تھا کہ عورتوں کو مساوی درجہ دیا گیا اور ان کے حقوق مقرر کیے گئے۔ چوں کہ اسلام صرف ایک فلسفیانہ نظریہ نہ تھا بلکہ اس نے اس وقت کی آباد دنیا کے بیشتر حصہ کو فتح کر ڈالا۔ اسلام کی تہذیب دنیا کی سب سے زیادہ غالب تہذیب بن گئی اور ہزار سال تک مسلسل بنی رہی۔ اس چیز نے تمام دنیا کے معاشروں کو متاثر کیا۔ اسلامی تہذیب کے زیر اثر تمام دنیا میں عورت کے حقوق پر نظر ثانی ہونے لگی۔ یہاں تک کہ عمومی طور پر یہ تسلیم کر لیا گیا کہ عورتوں کو بھی اسی طرح حقوق ملنے چاہئیں جس طرح وہ مردوں کو ملے ہوئے ہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page