Urdu book · خاتونِ اسلام

خاتونِ اسلام

Urdu book, p. 66

By Maulana Wahiduddin Khan

دور جدید کے جو مبصرین اسلام کی خوبیوں کا کھلے دل سے اعتراف کرتے ہیں۔ وہ بھی اکثر یہ جملہ دہراتے ہیں کہ اسلام میں عورتوں کو کم تر درجہ دیا گیا ہے۔ مگر یہ بات اپنی تردید آپ ہے۔ قدیم زمانے میں اور آج بھی، وراثت کا معاملہ اہم ترین معاشرتی معاملہ ہے۔ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ وراثت وہ واحد معیار ہے جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ کسی معاشرے میں کسی کو کیا درجہ دیا گیا ہے۔ اسلام کا وقت کے زمانی رواج کے سراسر برعکس جائیداد میں عورت کو حصہ دار بنانا واضح طور پر اس بات کا ثبوت ہے کہ اسلام عورت کو کم تر درجہ دینا نہیں چاہتا۔ اگر اسلام میں عورت کو کم تر درجہ دیا جاتا تو اس کا سب سے پہلا مظاہرہ یہ ہوتا کہ وراثت میں اس کا حصہ مقرر نہ کیا جاتا جو کہ زمانی رواج کے مطابق عین درست سمجھا جا رہا تھا۔ اس معاملہ میں مغربی ذہن کی غلطی دوبارہ وہی ہے جس کا شکار قدیم زمانے کا انسان تھا۔ یعنی بے بنیاد عقیدہ (irrational belief) کے تحت رائے قائم کرنا۔ قدیم زمانے کے انسان نے کچھ بے بنیاد عقیدے بنا لیے تھے جس کے نتیجے میں اس کے یہاں عورت کے بارے میں غلط قسم کے عمل رواج قائم ہو گئے۔ اسی طرح جدید مغرب نے عورت کے بارے میں ایک بے بنیاد عقیدہ بنا لیا۔ اس کے نتیجے میں عورت کا معاملہ بگڑ کر رہ گیا۔ عورت جدید تہذیب میں جدید مغربی انسان کی اصل مشکل یہ ہے کہ اس نے بے بنیاد طور پر عورت اور مرد کے درمیان صنفی مساوات کا عقیدہ بنا لیا۔ اس عقیدہ کی بنا پر اس کے نزدیک عورت کو مساوی درجہ دینے کے معنی یہ بن گئے کہ اس کو زندگی کے تمام شعبوں میں مرد کے شانہ بشانہ کھڑا کر دیا جائے ۔ چوں کہ اسلام عورت اور مرد کا دائرہ کار الگ الگ قرار دیتا ہے، اس لیے جدید انسان یہ فرض کر لیتا ہے کہ اسلام نے عورت کو کم تر درجہ دیا ہے۔ اس کے برعکس مغرب میں یہ کہا جا رہا ہے کہ عورت کو ہر شعبہ میں مرد کے برابر جگہ دو۔ اس بنا پر جدید انسان نے یہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page