Urdu book · خاتونِ اسلام

خاتونِ اسلام

Urdu book, p. 67

By Maulana Wahiduddin Khan

رائے قائم کرلی کہ مغرب میں اس کو برتر درجہ دیا جارہاہے۔ مگر عملی صورت حال کیا ہے۔ مغرب کے انتہائی ترقی یافتہ سماج میں بھی عورت کو ایک اعتبار سے عملاً وہی درجہ ملا ہوا ہے جو قدیم معاشرہ میں اسے حاصل تھا۔ آج بھی مغرب میں مرد اور عورت کے درمیان عملی تقسیم ہے۔ عورت کے شعبے الگ ہیں اور مرد کے شعبے الگ۔ پچھلے باب میں ہم نے تفصیل سے دکھایا ہے کہ جدید مغرب کے کسی بھی شعبہ میں عورت اور مرد کو عملی طور پر برابری کا وہ درجہ حاصل نہیں جس کا مغرب کے مفکرین نظری طور پر اعلان کرتے رہے ہیں۔ چودہ سو سال پہلے اسلام نے بھی آزادی نسواں کی ایک تحریک چلائی تھی۔ اس تحریک کا مقصد یہ تھا کہ عورت کو مصنوعی بندشوں سے نکالا جائے اور اس کو وہ مقام دیا جائے جو از روئے حقیقت اس کو ملنا چاہیے۔ (مثلاً گھر کی جائیداد میں دوسرے اہل خاندان کی طرح اس کا وراشی حصہ مقرر کرنا)۔ اسلام کی اس تحریک نے عورت کا درجہ بلند کیا۔ بغیر اس کے کہ سماج میں کوئی نیا مسئلہ پیدا ہوا ہو۔ اسلام کا تجربہ وحی کی روشنی میں کیا گیا، اس لیے وہ حدود کے اندر تھا۔ اس کے برعکس جدید مغرب کا تجربہ عقل کی روشنی میں (زیادہ صحیح الفاظ میں جذبات کے تحت) کیا گیا، اس لیے وہ حدود کا پابند نہ رہ سکا۔ اس تجربہ نے نئے نئے سماجی مسائل پیدا کر دیے۔ غیر فطری مساوات ایڈورڈ ولیم نے قرآن کے منتخب حصوں کا انگریزی ترجمہ تیار کیا تھا جو پہلی بار 1843ء میں لندن سے چھپا تھا۔ اس کتاب کے دیباچہ میں انگریز مستشرق نے لکھا کہ اسلام کا سب سے کمزور پہلو اس کا عورت کو کم تر درجہ دینا (degradation of woman) ہے۔ اس کے بعد سے اب تک اس بات کو بار بار دہرایا گیا ہے۔ یہ بات اتنی عام ہوئی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page