Urdu book · خاتونِ اسلام

خاتونِ اسلام

Urdu book, p. 68

By Maulana Wahiduddin Khan

کہ نہ صرف اسلام کے کھلے دشمن اس کو دہراتے ہیں بلکہ اسلام کا اعتراف کرنے والے نسبتاً منصف مزاج مورخین، مثلاً جے۔ ایم رابرٹس جیسے لوگ بھی اس کا تذکرہ اس طرح کرتے ہیں جیسے کہ وہ کوئی ثابت شدہ واقعہ ہو۔ اس کتاب کے دوسرے مقامات پر ہم نے تفصیل کے ساتھ دکھایا ہے کہ یہ الزام سراسر بے بنیاد ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس الزام کے بالکل برعکس اسلام نے عورت کے مرتبہ کو بڑھایا ہے۔ زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ انسانی تاریخ میں صرف دو تہذیبیں ہیں۔ جنھوں نے عورت کے مرتبہ کو گھٹایا۔ ایک، قدیم مشرکانہ تہذیب، اور دوسرے جدید ملحدانہ تہذیب، اول الذکر نے نظری اور عملی دونوں حیثیت سے اور ثانی الذکر نے عملی حیثیت سے۔ قدیم مشرکانہ تہذیب اوہام وخرافات (myths) پر قائم تھی۔ چیزوں کے بارے میں فرضی طور پر کچھ بے بنیاد رائے قائم کرلی گئی تھیں اور زندگی کے تمام معاملات کو انھیں مفروضات کے تابع کر دیا گیا تھا۔ قدیم انسان نے کچھ چیزوں (مثلاً سورج اور چاند کو) فرضی طور پر بڑا سمجھ لیا۔ اور انھیں پوجنے لگا۔ اسی طرح اس نے کچھ چیزوں کو چھوٹا سمجھ لیا اور ان کو حقیر بنا دیا۔ انھیں حقیر چیزوں کی فہرست میں عورت بھی شامل تھی۔ عورت کے یہاں ماہواری کا آنا، عورت کا جنگ میں نہ لڑسکنا، اس طرح کی باتوں کی توہماتی تعبیر کر کے یہ سمجھ لیا گیا کہ عورت ایک حقیر جنس ہے اور اس کے ساتھ مرد کے مقابلہ میں کم درجہ کا سلوک کرنا چاہیے۔ جدید مغربی تہذیب نے نظری طور پر بظاہر عورت کا درجہ بلند کرنے کا اعلان کیا۔ اس نے کہا کہ عورت اور مرد دونوں ہر حیثیت سے برابر ہیں۔ ہر وہ کام جو مرد کرتا ہے وہی کام عورت بھی کر سکتی ہے۔ اس لیے عورت کو گھر سے باہر نکل کر زندگی کے ہر شعبہ میں مرد کے برابر مقام حاصل کرنا چاہیے۔ اس نظریہ کے علم برداروں نے جو نعرے اختیار کیے، ان میں سے ایک نعرہ یہ تھا کہ کافی نہ بناؤ، پالیسی بناؤ:

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page