Urdu book · خاتونِ اسلام

خاتونِ اسلام

Urdu book, p. 69

By Maulana Wahiduddin Khan

عورت کے بارے میں جدید تہذیب کا یہ نظریہ بظاہر عورت کا درجہ بلند کرنے کے ہم معنی ہے، مگر عملی طور پر وہ صرف عورت کا درجہ گرانے کے ہم معنی ثابت ہوا ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ برابری کے خوبصورت دعووں کے باوجود زندگی کے تمام جدید شعبوں میں عورت کا درجہ مرد سے کم ہے۔ اگلے باب "مغربی عورت" میں ہم نے اس کو تفصیل کے ساتھ دکھایا ہے۔ اس کی وجہ کیا ہے۔ اس کی وجہ، ایک لفظ میں، مساوات کا غلط تصور ہے۔ مردوں کے درمیان مساوات ایک تسلیم شدہ نظریہ ہے جس میں کوئی اختلاف نہیں۔ لیکن اگر ایک مرد اور دوسرے مرد کے درمیان مساوات کا مطلب یہ ہو کہ ہر میدان میں ہر مرد دوسرے مرد کا مقابلہ کر سکتا ہے تو یہ نظریہ سراسر بے معنی ہو جائے گا۔ انسانی مساوات کا مطلب اگر کچھ لوگ یہ سمجھ لیں کہ ہر آدمی کو ہر شعبہ میں کام کرنا چاہیے تو اس کا نتیجہ کیا ہوگا۔ اس قسم کی غیر فطری مساوات کا کوئی علم بردار آئن سٹائن کو ایک ایسی آبادی میں لے جائے گا جہاں صرف باکسر (boxers) بستے ہوں اور وہاں وہ آئن سٹائن کو باکسروں کے ساتھ "عمل" میں لگا دے گا۔ ظاہر ہے کہ اس قسم کی مساوات کا نتیجہ صرف غیر مساوات کی صورت میں برآمد ہوگا۔ یونیورسٹی یا سائنس کا نفرنس میں جو آئن سٹائن ٹاپ پر نظر آرہا تھا وہ باکسروں کی مقابلہ گاہ میں کم تر درجہ کا انسان بن کر رہ جائے گا۔ اس سے معلوم ہوا کہ مساوات کا مطلب عمل میں مساوات نہیں بلکہ حیثیت میں مساوات ہے۔ مساواتِ انسانی یہ نہیں ہے کہ ہر آدمی وہی کام کرے جو کام دوسرا آدمی کر رہا ہے۔ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ ہر آدمی کو یکساں عزت ملے، ہر ایک کو یکساں احترام کی نظر سے دیکھا جائے۔ ہر ایک کے ساتھ یکساں اخلاقی سلوک کیا جائے۔ مرد اور عورت کے معاملہ میں مغرب کی غلطی یہی ہے کہ اس نے دونوں جنسوں کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page