خاتونِ اسلام
Urdu book, p. 70
By Maulana Wahiduddin Khan
درمیان مذکورہ بالا قسم کی غیر فطری مساوات قائم کرنے کی کوشش کی۔ اس کا نتیجہ وہی ہو جو ہونا چاہیے تھا۔ مرد اور عورت کے درمیان تاریخ کی سب سے بڑی عدم مساوات قائم ہوگئی۔ مرد اور عورت دو الگ الگ جنسیں ہیں اور دونوں کی تخلیق الگ الگ مقاصد کے تحت ہوئی ہے۔ دونوں کو اگر ان کی تخلیق کے اعتبار سے ان کے اپنے میدان میں رکھا جائے تو دونوں اپنے اپنے میدان میں مساوی طور پر کامیاب رہیں گے۔ اور اگر مرد اور عورت دونوں کو ایک ہی میدان میں ڈال دیا جائے تو عورت وہ کام نہ کر سکے گی جو مرد اپنی تخلیقی صلاحیت کے اعتبار سے زیادہ بہتر طور پر کر سکتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ عورت مرد کے مقابلے میں کم درجہ کی جنس بن کر رہ جائے گی۔ ایک لڑکی اپنے گھر سے بگڑ کر بھاگ گئی۔ وہ ایک شہر میں پہنچی۔ وہ سمجھتی تھی کہ وہاں وہ مردوں کی طرح کمائی کر کے اپنی آزاد زندگی بنا سکے گی۔ مگر مردانہ شعبوں میں سے کسی شعبہ میں اسے جگہ نہ مل سکی۔ اس کے بعد جو چیز اس کے پاس باقی رہ گئی تھی وہ اس کی نسوانیت تھی۔ اس نے اپنی نسوانیت کو بازار کا سودا بنا دیا۔ اس کو آزاد زندگی مل گئی۔ مگر یہ آزاد زندگی اپنے آپ کو مرد کا سامان تفریح بنانے کی قیمت پر تھی، نہ کہ سماجی زندگی میں ”برابری کا درجہ حاصل کرنے کی قیمت پر۔ یہی حال زیادہ بڑے پیمانہ پر مغربی عورت کا ہوا ہے۔ مغرب نے اپنی عورتوں میں یہ مزاج بنایا کہ وہ باہر اگر مردوں کی طرح کمائیں۔ مگر عورت جب گھر سے نکل کر باہر آئی تو اس کو معلوم ہوا کہ موجودہ شعبوں میں وہ مرد کی طرح کام کر کے اپنی قیمت حاصل نہیں کر سکتی۔ اب کمائی اور آزادانہ زندگی حاصل کرنے کی خاطر اس کے پاس دوسرا بدل صرف ایک تھا اور وہ اس کا نسوانی جسم تھا۔ مذکورہ لڑکی کی طرح اس کو بھی اپنے نسوانی جسم کو بازار کا سودا بنانا پڑا۔ اس غیر فطری اور غیر اخلاقی عمل سے عورت کو نام نہاد برابری کا درجہ تو نہیں ملا۔ البتہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader