Urdu book · خاتونِ اسلام

خاتونِ اسلام

Urdu book, p. 71

By Maulana Wahiduddin Khan

اس کے نتیجے میں بے شمار نئے مسائل پیدا ہو گئے۔ ان میں ایک مسئلہ وہ ہے جس کو عريانيت (pornography) کہا جاتا ہے۔ عریانیت کوئی علاحدہ مسئلہ نہیں، یہ بے قید آزادی کا وہ لازمی نتیجہ ہے جس کو اس سے جدا نہیں کیا جا سکتا۔ عريانيت کا مسئلہ عريانيت (pornography) سے مراد عشق و محبت کے مناظر پیش کرنا ہے، خواہ کتابوں میں یا تصویروں میں یا فلم میں جن کا مقصد جنسی جذبہ بھڑکانا ہو۔ دنیا کے اکثر ملکوں میں عریاں مواد قانونی ممانعت کا موضوع بن رہا ہے اس کی وجہ حسب ذیل دو مفروضے ہیں: (۱) عریاں مواد نوجوانوں یا نو جوانوں اور بالغوں دونوں کے اخلاق کو بگاڑنے والا ہے۔ (۲) اس طرح کی چیزوں کا استعمال جنسی جرائم پیدا کرنے کا سبب بنتا ہے : “Pornography is the representation of erotic behavior, as in books, pictures, or films, intended to cause sexual excitement. Pornographic matter has fallen under legislative prohibition in most countries in the world on at least one of the following assumptions: (1) pornography will tend to deprave or corrupt the morals of youth, or of adults and youth; and (2) consumption of such matter is a cause of sexual crimes." (The Encyclopedia Britannica, 1984, Vol. VII, p. 127) عريانيت اب مغربی ملکوں میں انڈسٹری بن چکی ہے۔ صرف امریکا میں اس کے تحت سالانہ آٹھ بلین ڈالر کا کاروبار ہوتا ہے۔ ایک امریکی کمیشن نے امریکہ میں ہونے والے جنسی جرائم کا سبب عریانیت کو قرار دیا ہے اور اس پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا ہے :

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page