خاتونِ اسلام
Urdu book, p. 72
By Maulana Wahiduddin Khan
“A U.S. government commission has issued a report linking sex crimes with hard-core pornography. The commission, headed by then U.S. Attorney General Mr. Edwin Meese, called for a law enforcement effort of unprecedented scope against the $8 billion-a-year pornography industry.” (Times of India, 11 July, 1986) محکمہ انصاف (واشنگٹن) کے تحت قائم شدہ ایک کمیشن نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ اکثر عوریاں سامان جو امریکہ میں فروخت ہوتا ہے وہ امکانی طور پر نقصان دہ ہے اور تشدد پیدا کر سکتا ہے۔ عریانی پر اٹارنی جنرل کے کمیشن نے اپنے آخری رپورٹ میں یہ سفارش کی ہے کہ عریانی کی صنعت کے خلاف کارروائی کی جائے۔ اس کی تجویز میں یہ بھی شامل ہے کہ عریانی کے قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو سخت جرمانے کیے جائیں۔ رپورٹ نے یہ پایا ہے کہ عریانی کی اشاعت اکثر جنسی تشدد، جنسی جبر اور نا مطلوب جنسی جارحیت کا سبب بنتی ہے۔ کمیشن کے یہ نتائج اس سابقہ کمیشن سے مختلف ہیں جو 1970 میں صدر امریکہ نے قائم کیا تھا۔ سابقہ کمیشن نے کہا تھا کہ عریانی اور تشدد یا دوسرے سماجی دشمن سلوک میں کوئی رشتہ نہیں ہے۔ اٹارنی جنرل ایڈون میسی کا تشکیل کردہ کمیشن پچھلے سال قائم ہوا تھا۔ اس نے کہا کہ امریکہ کا بیشتر عیاں لٹریچر عورتوں کا رتبہ گرانے (degrading) کے ہم معنی ہے۔ رپورٹ نے کہا کہ ہم متفقہ طور پر اور پر اعتماد طور پر اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ حاصل شدہ معلومات شدت سے اس خیال کی تائید کرتی ہیں کہ جنسی طور پر پرتشدد سامان کی قابل لحاظ حد تک نمائش سماج دشمن اعمال اور جنسی تشدد کا سبب بنتی ہے۔ نیز کچھ طبقوں کے لیے امکانی طور پر جنسی تشدد کے غیر قانونی عمل کے لیے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader