Urdu book · خاتونِ اسلام

خاتونِ اسلام

Urdu book, p. 74

By Maulana Wahiduddin Khan

are either directly operated or closely controlled by La Cosa Nostra members or very close associates,” the commission said.” (By arrangement with The International Herald Tribune, Washington) (The Times of India, New Delhi, 23 May 1986) بے قیدی کے نتائج عورت کو گھر سے باہر لانا، مرد اور عورت کا آزادانہ اختلاط اور عریانیت کی کثرت کا لازمی نتیجہ شہوانی جذبات کا اشتعال ہے۔ جدید مغرب میں شہوانی جذبات کا اشتعال لامحدود سطح پر پیدا ہوا۔ اس لامحدود اشتعال کی تسکین کے لیے نکاح کا طریقہ ناکافی تھا۔ چنانچہ دھیرے دھیرے آزاد جنسی تعلق کا ذہن پیدا ہونا شروع ہوا۔ ایک نیا لٹریچر بہت بڑے پیمانہ پر پیدا ہوا جس میں مرد اور عورت کے درمیان آزادانہ جنسی تعلق کو اتنا ہی فطری اور بے ضرر قرار دیا گیا جتنا دو دوست کا آپس میں ہاتھ ملانا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ لوگ نکاح کو بوجھ سمجھ کر اس سے دور ہونے لگے۔ نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں نے نکاح کے بغیر ساتھ رہنا شروع کر دیا۔ حتیٰ کہ اب "غیر شادی شدہ جوڑے" کی اصطلاح مغرب میں اسی طرح ایک جائز اصطلاح سمجھی جاتی ہے جیسے شادی شدہ جوڑے کی اصطلاح۔ خدائی شریعت نے عورت اور مرد کے درمیان جو توازن قائم کیا تھا، اس کی بنیاد اس اصول پر تھی کہ عورت اور مرد ایک دوسرے کا تکملہ (complements) ہیں، وہ ایک دوسرے کا مثنی (duplicates) نہیں ہیں۔ موجودہ زمانے میں آزادی نسواں کی تحریک نے اس کے برعکس دعویٰ کیا۔ اس نے کہا کہ نہیں، عورت اور مرد ایک دوسرے کا مثنیٰ ہیں۔ یعنی جو عورت ہے وہی مرد ہے اور جو مرد ہے وہی عورت ہے۔ اس نظریہ کو موجودہ زمانہ میں زبردست کامیابی حاصل ہوئی۔ حتیٰ کہ عورت اور مرد کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page