خاتونِ اسلام
Urdu book, p. 75
By Maulana Wahiduddin Khan
درمیان قائم شدہ وہ توازن ٹوٹ گیا جو سیکڑوں برس سے دونوں کے درمیان پایا جا رہا تھا۔ مگر اس کے نتیجے کو دیکھیے تو توازن ٹوٹنے کا کوئی فائدہ انسانیت کو نہیں ملا۔ البتہ اس کے نقصانات اتنے زیادہ ہیں کہ ان کا شمار نہیں کیا جا سکتا۔ عورت کے معاشی استقلال کے بطن سے سب سے پہلے جو چیز پیدا ہوئی وہ طلاق کی کثرت ہے۔ عورت کے بارے میں جدید تحقیقات نے ثابت کیا ہے کہ وہ مرد کے مقابلے میں جذباتی (emotional) ہوتی ہے۔ وہ فوری تاثر کے تحت ناعاقبت اندیشانہ فیصلہ کر سکتی ہے۔ صنعتی انقلاب سے پہلے عورت کا معاشی طور پر آزاد نہ ہونا اس کی جذباتیت پر ایک قسم کا روک تھا۔ وہ جب ازدواجی زندگی سے آزردہ ہوتی تھی تو احساس اس کو روک دیتا تھا کہ اگر وہ طلاق لے لے تو کہاں رہے گی۔ مگر موجودہ زمانے میں ایک عورت کے لیے یہ اندیشہ باقی نہ رہا۔ انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا (1984) نے بتایا ہے کہ دنیا کے صنعتی ملکوں (industrialized parts of the world) میں طلاق کی شرح میں بہت اضافہ ہو گیا ہے، اور اس کی وجہ عورتوں کا معاشی استقلال ہے۔ (Encyclopedia Britannica, Vol. III, p. 586) مغربی دنیا میں طلاقوں کی تعداد خطرناک حد تک زیادہ ہو گئی ہے۔ فرانس کے شہروں میں 50 فی صد شادیاں طلاق پر ختم ہوتی ہیں۔ کناڈا میں ان کی تعداد تقریباً 40 فی صد ہے۔ اسی طرح امریکہ میں طلاق کی شرح 50 فی صد تک پائی گئی ہے۔ امریکا 10 خواتین میں چھ وہ ہیں جو طلاق کا تجربہ کر چکی ہیں ۔ (پلین ڈروتھی مئی 1986) کم سن مجرمین جدید دور میں عورت کو گھر سے باہر نکال کر زندگی کے ہر شعبہ میں داخل کیا گیا۔ اس کا یہ فائدہ تو نہیں ہوا کہ عورت کو فی الواقع زندگی کے ہر شعبہ میں مرد کے برابر مقام مل گیا ہو۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader