خاتونِ اسلام
Urdu book, p. 76
By Maulana Wahiduddin Khan
البتہ اس کے نتیجے میں بے شمار ناقابل حل مسائل پیدا ہوگئے ۔ ان میں سے ایک نا جائز جنسی تعلقات کا مسئلہ ہے۔ عورت اور مرد کا آزادانہ اختلاط اور نا جائز جنسی تعلقات بالکل لازم وملزوم ہیں۔ ان کو ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا جاسکتا۔ نا جائز جنسی تعلق ابتدا ء ایک سادہ سی بات معلوم ہوتی ہے۔ مگر جب ایک مرد اور ایک عورت کے تعلق سے ایک تیسرا بچہ پیدا ہوتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ کوئی سادہ فعل نہ تھا۔ بلکہ اپنے بعد سنگین نتائج رکھتا تھا۔ مغربی ملکوں کے نو جوان عام طور پر منع حمل کی تدبیر پر عمل کرتے ہیں۔ اس کے با وجود وہاں کثیر تعداد میں نا جائز بچے پیدا ہورہے ہیں۔ برطانیہ میں جو بچے پیدا ہورہے ہیں ۔ ان میں ہر پانچ میں ایک بچہ وہ ہوتا ہے جو نا جائز جنسی تعلق کے نتیجے میں پیدا ہوتا ہے۔ اسی طرح ہر تین حمل میں سے ایک حمل غیر شادی شدہ جوڑوں کے ذریعہ قرار پارہا ہے۔ یہ بات لندن سے چھپنے والی 1985 کی رپورٹ میں بتائی گئی ہے: ILLEGITIMATE KIDS: "Nearly one in five children born in Britain was illegitimate and that nearly one in three had been conceived by unmarried parents, an official report in 1985 revealed in London." reports AFP. (The Times of India, May 17, 1986, p. 9) یہ نا جائز بچے اس حال میں دنیا میں آتے ہیں کہ انھیں نہ اپنے باپ کا علم ہوتا ہے اور نہ اپنی ماں کا۔ وہ سرکاری اداروں میں پلتے ہیں اور پھر جانور کی طرح سماج میں داخل ہو جاتے ہیں۔ مغربی ملکوں میں طلاقوں کی کثرت نے بھی یہی صورت حال پیدا کی ہے۔ مغربی ملکوں میں نکاح کا رشتہ بے حد کمزور ہو گیا ہے۔ معمولی معمولی باتوں میں عورت اور مرد کے درمیان طلاق ہو جاتی ہے۔ ان طلاقوں نے بہت بڑے پیمانہ پر وہ مسئلہ پیدا کیا ہے جس کو اجڑے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader