Urdu book · خاتونِ اسلام

خاتونِ اسلام

Urdu book, p. 77

By Maulana Wahiduddin Khan

ہوئے گھر (broken homes) کا مسئلہ کہا جاتا ہے۔ عورت اور مرد، جب طلاق لے کر جدا ہوتے ہیں تو عین اسی وقت وہ اپنے بچوں کو بھی ماں اور باپ کے سایہ سے محروم کر دیتے ہیں۔ یہ تمام بچے معاشرہ میں جانوروں کی طرح پلتے ہیں اور پھر انھیں کے اندر سے وہ مجرمانہ کردار ابھرتے ہیں جن کا ایک تجربہ " شوبھراج " کی صورت میں 1986 میں ہندوستان میں کیا گیا ہے۔ انسائیکلوپیڈیا برطانیہ (1984) نے کم سن مجرمین کے موضوع پر بحث کرتے ہوئے لکھا ہے کہ بیسویں صدی عیسوی کے بوکھلا دینے والے سماجی روگوں میں سے ایک روگ وہ ہے جس کو کم سنی کا جرم کہا جاتا ہے۔ یہ ایک عالمی مظہر ہے۔ اگرچہ کیفیت اور رفتار کے اعتبار سے ایک ملک اور دوسرے ملک میں فرق پایا جاتا ہے: “Among the most baffling social maladies of the 20th century is that of juvenile delinquency. A world-wide phenomenon, it varies in quality and frequency from country to country.” (11/913). یہ ایک معلوم حقیقت ہے کہ انسان کا بچہ سب سے زیادہ کمزور بچہ ہوتا ہے۔ وہ تمام زندہ چیزوں میں سب سے زیادہ اپنے ماں باپ کی محبت اور سر پرستی کا محتاج ہوتا ہے۔ مگر عورت کے معاملہ میں مغربی تہذیب کی غیر فطری روش کا یہ نتیجہ ہوا ہے کہ بچے اس نعمت سے محروم ہو گئے جس کو قدرت نے ماں باپ کی شکل میں ان کے لیے پیدا کیا تھا۔ کہیں وہ اس لیے محروم ہیں کہ باپ کے ساتھ ماں بھی سارے دن دفتر میں کام کرتی ہے۔ کہیں وہ اس لیے محروم ہیں کہ ان کے ماں باپ نے انھیں پیدا کر کے باہم علاحدگی اختیار کر لی اور کوئی ایک طرف چلا گیا اور کوئی دوسری طرف ۔ کہیں وہ اس نعمت سے اس لیے محروم ہیں کہ جو مرد اور عورت ان کو وجود میں لانے کے ذمہ دار ہیں انھوں نے رشتہ نکاح میں اپنے آپ کو

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page