Urdu book · خاتونِ اسلام

خاتونِ اسلام

Urdu book, p. 80

By Maulana Wahiduddin Khan

کرتے ہیں۔ نئی نسوانی تحریک نے ایسی نوجوان عورتوں کی تعداد بہت بڑھادی ہے جنھوں نے طے کیا ہے کہ وہ شادی نہیں کریں گی اور تنہا رہیں گی۔ ایک امریکی جریدہ سائیولوجی ٹوڈے کے ایک سو النامہ کے جواب میں 51 فیصد مردوں نے کہا کہ امریکی سماجی عورتوں کا استحصال اسی طرح کرتا ہے جس طرح کالے نیگرؤوں کا۔ ایک سیاست داں کلیئر یوتھلوس نے کہا کہ امریکی عورت نے جب 30-1920 میں ووٹ کا حق حاصل کیا اور کالج جانا شروع کیا تو اس وقت عورتوں نے سمجھ لیا کہ لڑائی جیتی جا چکی ہے۔ انھوں نے ایک بہادرانہ آغاز شروع کیا۔ وہ گھروں سے باہر نکلیں اور ملازمتوں میں اپنی جگہ بنانا شروع کیا۔ مگر ابھی تک انھوں نے امریکی زندگی میں کوئی اہم جگہ حاصل نہیں کی۔ امریکی عورت آج کہاں ہے؟ جواب یہ ہے کہ اعداد وشمار کی زبان میں پہلے کے مقابلے میں 106 ملین زیادہ مضبوط ہے۔ وہ قومی ملازمتوں کے دو تہائی سے زیادہ حصہ پر قابض ہے۔ لیکن ڈیپارٹمنٹ آف لبر کے ایک سروے کے مطابق، امریکی عورت عام طور پر مرد کے مقابلے میں کم مہارت اور کم تنخواہ کے کام کرتی ہے۔ کئی ملازمتوں میں وہ ایک ہی کام کے لیے مساوی تنخواہ نہیں پاتی۔ کسی کارخانے میں چھٹی ہو تو اس کا حال کالوں کا سا ہوتا ہے، اس کو سب سے پہلے نکال دیا جاتا ہے۔ اس کی وجہ شادی کا عدم استحکام اور طلاق کی بڑھتی ہوئی شرح ہے۔ 1964 میں لنڈن جانسن نے صدارتی حکم جاری کیا کہ عورتوں کو زیادہ سے زیادہ سرکاری ملازمتوں میں لیا جائے۔ 1967 میں فیڈرل سول سروس نے مکمل اعداد و شمار شائع کیے جس میں عورتوں کا تناسب بتایا گیا تھا۔ اونچے اسکیل کی سرکاری ملازمتیں جن کی تنخواہ 28 ہزار ڈالر سالانہ سے شروع ہوتی ہے اس کے مطابق 1966 میں صرف 1.6 فی صد عہدے عورتوں کے پاس تھے۔ صدر نکسن نے وعدہ کیا کہ وہ زیادہ عورتوں کو سرکاری محکمہوں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page