Urdu book · خاتونِ اسلام

خاتونِ اسلام

Urdu book, p. 81

By Maulana Wahiduddin Khan

میں لیں گے، حتیٰ کہ انھوں نے عورتوں کی بھرتی کا ایک شعبہ وائٹ ہاؤس میں کھول دیا۔ مگر واشنگٹن کی عورتیں مشکل ہی سے اونچے سرکاری عہدوں پر پہنچ پاتی ہیں۔ یہاں کوئی عورت کبھی سپریم کورٹ کی جج نہ بن سکی۔ صرف دو عورتیں ہیں جنھیں امریکا کی تاریخ میں کابینہ میں بیٹھنے کا موقع ملا ہے۔ اس وقت صرف ایک عورت امریکی سینٹ میں ہے اور گیارہ عورتیں ہاؤس آف ریپریزینٹیو میں۔ نیو یارک واحد اسٹیٹ ہے جہاں ایک خصوصی ویمنز ایڈ وائزری یونٹ برائے گورنر قائم ہے۔ مگر اس کا بھی حال یہ ہے کہ اس کی سیاہ فام خاتون صدر نے کہا: ہم تو صرف ایک علامتی ایجنسی ہیں۔ (صفحہ 18) خاتون نے مزید کہا: نیو یارک اسٹیٹ گورنمنٹ میں 63 علاحدہ ایجنسیاں ہیں ان میں سے صرف 13 ایسی ہیں جن میں سیکرٹری سے اوپر کا کوئی عہدہ کسی عورت کو ملا ہے۔ پورے امریکا میں صرف چند خاتون میئر ہیں۔ آخری اسٹیٹ گورنر الباما میں تھی جس کا نام لورلین ولیس تھا۔ 50 ریاستوں کے لیجسلیچر اداروں میں مجموعی طور پر سات ہزار ممبران ہیں جن میں صرف 340 عورتیں ہیں۔ ان میں سے چند ہی ایسی ہیں جو کوئی اثر رکھتی ہیں۔ مردوں کی اس دنیا میں عورتیں اب بھی صرف ایک روایتی درجہ رکھتی ہیں۔ وہ صرف ایسے شعبوں میں جوش وخروش سے لی جاتی ہیں جو عورتوں پر انحصار رکھتے ہیں، جیسے فیشن یا ایکٹنگ۔ جیسا کہ کلیریلیوس نے کہا ہے: اقتدار، روپیہ اور جنس، آج امریکا کی تین سب سے بڑی قدریں ہیں۔ اور عورتیں اقتدار تک کوئی پہنچ نہیں رکھتیں، سوا اپنے شوہروں کے ذریعہ۔ وہ روپیہ حاصل کرتی ہیں تو زیادہ تر جنس کے ذریعہ خواہ جائز ہو یا ناجائز۔ (صفحہ 18) نسوانی انقلاب اگر سادہ طور پر یہ چاہتا کہ ایک کا رفرما طبقہ کی جگہ دوسرے کو کارفرما بنا دے اگر وہ کلی طور پر نسوانی غلبہ کو اپنا مقصد بناتا تو منزل شاید آسان ہوتی۔ برابری کا مطالبہ، نہ کہ غلبہ کا، انتہائی طور پر پیچیدہ ہے۔ خود مختار شرکاء کے درمیان سچی برابری حاصل

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page