خاتونِ اسلام
Urdu book, p. 83
By Maulana Wahiduddin Khan
ضروریات کے لیے بھی کافی نہیں۔ ٹیلی فون، ریڈیو، ٹیلی ویژن اور دوسرے سامانِ تعیش کا تو کوئی سوال ہی نہیں۔ ”میری زندگی بے معنی ہے“(my life is meaningless) اس نے کہا۔ اب اس کی 19 سالہ لڑکی نے ایک ناجائز بچہ جنا ہے جس نے اس کے مسائل میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ ”آزادی نسواں کی تحریک کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے۔ ٹائم کے نامہ نگار نے اس سے پوچھا۔ مجھے اس سے کوئی دل چسپی نہیں“۔ اور مذہب؟ میں چرچ نہیں جاتی۔ وہ سب ڈا کو ہیں میں گھر پر عبادت کر سکتی ہوں اور خدا یقیناً سنے گا۔ میرے پاس چرچ کو ادا کرنے کے لیے کچھ نہیں؛ اس کے خیالات کا خلاصہ یہ تھا کہ مجھے زندہ رہنے کے لیے جگہ چاہیے اور بس: “I just need some space to survive.” گیلی گن (Lauretta Galligan) کی شادی 1944 میں ہوئی۔ تعلیم کے بعد اس نے کچھ دن کام کیا۔ اب اس نے باہری دلچسپیاں ترک کر دی ہیں تا کہ وہ گھر پر زیادہ سے زیادہ وقت گزار سکے۔ 52 سال کی عمر میں اب بھی وہ صبح ساڑھے چھ بجے اٹھ جاتی ہے تا کہ اپنے شوہر کا ناشتہ تیار کرے اور بچوں کو تیار کر کے وقت پر اسکول بھیج سکے، وہ بہت خوش ہوتی ہے جب اس کا شوہر اس کو اپنا سب سے بڑا سرمایا کہتا ہے۔ اس کا کہنا ہے: میں سب سے پہلے اپنے خاندان اور اپنے شوہر کے کام کو ترجیح دیتی ہوں، اس کے بعد میں دوسری چیزوں کے لیے کام کرتی ہوں۔ لاریٹا کبھی برج نہیں کھیلتی اور اتفاقاً کبھی فیشن شو میں جاتی ہے۔ اس کی زیادہ تر سوشل زندگی شوہر کے بزنس کے گرد گھومتی ہے ماں بننا اور گھر بنانے میں مشغول ہونا بڑا دل چسپ مشغلہ ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader