Urdu book · خاتونِ اسلام

خاتونِ اسلام

Urdu book, p. 84

By Maulana Wahiduddin Khan

سوزین (Suzanne Sape)، عمر 23 سال، شادی شدہ ہونے پر خوش ہے مگر وہ اولاد نہیں چاہتی، اگر کبھی ایسا ہو تو میں اسقاط کو پسند کروں گی، مجھے بچے پسند ہیں۔ بچوں کو اس قابل بنانا کہ وہ وقت کے مسائل کا مقابلہ کرکے زندہ رہ سکیں بڑا مشکل کام ہے اور وقت اور قوت چاہتا ہے۔ میں اس جھنجھٹ میں پڑنا نہیں چاہتی۔ اس نے ارادہ کیا تھا کہ وہ آپریشن کر والے مگر پھر رک گئی۔ کیوں کہ جسمانی اور نفسیاتی ردعمل کا خطرہ تھا۔ وہ کہتی ہے: اگر آپ ایک کام کرنے والی عورت ہیں تو آپ کس طرح بچوں کی نگہداشت کر سکتی ہیں۔ اگر ایک عورت کے ایک بچہ ہو تو کم از کم ایک سال ورنہ دو یا تین سال تک اس کو پوری طرح اس میں مشغول ہونا پڑے گا۔ نارین (Norine O'Callaghan) اسقاط کے خلاف ہے۔ ”یہ تو قتل ہے۔“ اس کو تردید ہے کہ کچھ عورتیں مرکز تحفظ اطفال کو بچوں کی پرورش کا بدل سمجھتی ہیں۔ وہ آزادی نسواں سے ہمدردی رکھتی ہے۔ مگر اس کا کہنا ہے کہ عورتیں اگر ساری سرگرمیوں میں شریک ہوں تو مردوں کی طرح ہو جائیں گی اور یہ اچھا نہیں ہوگا۔ ہیوبر (Marica Heuber)، جب میں ہائی اسکول میں تھی تو میری سب سے بڑی منزل شادی تھی۔ اگر چہ وہ اتنا ہی سخت کام کرتی ہے جتنا اس کا شوہر۔ مگر جب وہ شوہر کے مقابلے میں اپنی حیثیت پر غور کرتی ہے تو وہ محسوس کرتی ہے کہ مرد کو غالب جنس ہونا چاہیے ، وہ پورے یقین کے ساتھ کہتی ہے، میں چاہتی ہوں کہ میرے شوہر کو یہ احساس ہو کہ وہ گھر کا بڑا ہے ہم مل جل کر فیصلے کرتے ہیں۔ مگر میں سمجھتی ہوں کہ آخری حرف اسی کا ہونا چاہیے۔ دیشیا ایک نہایت سرگرم عورت ہے۔ اس نے جو زندگی بنائی ہے اس پر اس کو فخر ہے۔ ”شادی شدہ ہونا اور ایک فیملی کا مالک ہونا میرے لیے سب سے اہم چیزیں ہیں۔ میں اپنی زندگی پر بہت خوش ہوں ۔“ یا نگ (Lynn Young) ایک 33 سالہ خاتون ہے۔ اس نے طے کیا ہے کہ وہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page