Urdu book · خاتونِ اسلام

خاتونِ اسلام

Urdu book, p. 85

By Maulana Wahiduddin Khan

شادی نہیں کرے گی ۔ "میں سرجن بننا چاہتی تھی" اس نے کہا " مگر ایک دوست ڈاکٹر نے اس ارادہ کی حوصلہ شکنی کی۔ اس نے بتایا کہ یہ پیشہ بہت سخت ہے، اور عورت کے بس کا نہیں۔ "بہت سی عورتیں اپنے شوہر کے بغیر محفوظ نہیں سمجھتیں۔ مگر یہ شادی کرنے کی بہت بے ہودہ وجہ ہے۔ (صفحہ 22) الینور (Eleanor Driver): میں اپنے شوہر کو اے بی کہتی ہوں، یعنی مغرور، نمک حرام اور وہ واقعہ ہے۔ مگر وہ مضبوط اور غالب ہے اور میں اس کو پسند کرتی ہوں۔ جب مجھے یونیورسٹی میں ایک ملازمت ملی تو اس نے کہا جاؤ، مگر میں چاہتا ہوں کہ میرے موزے دھلے ہوئے ہوں ۔ "عورتیں، عورتوں کی آزادی نہیں چاہتیں، وہ صرف محبت چاہتی ہیں"۔ تنظیم آزادی نسواں ، رسمی طور پر 1966 میں قائم ہوئی۔ آج وہ عورتوں کی سب سے طاقت ور تنظیم ہے۔ اس کے ممبروں کی تعداد 18 ہزار تک پہنچ چکی ہے۔ بچوں کی پرورش سے لے کر اسقاط حمل کے قانون میں اصلاح تک اس نے متعدد کامیابیاں حاصل کی ہیں ۔ آزادی نسواں کا خاص مقصد یکساں کام کے لیے یکساں تنخواہ ہے، ایک ایسی قوم میں جہاں عورتوں کو تعلیم کے میدان میں آگے بڑھنے، سیاسی نفوذ اور اقتصادی طاقت حاصل کرنے پر کوئی رکاوٹ نہیں۔ صفحہ 23 پچھلے سال صدر نکسن نے ایک بل کو ویٹو کر دیا جو سرکاری اہتمام میں تحفظ اطفال مراکز کے قیام سے متعلق تھا۔ یہ ایک نہایت جامع منصوبہ تھا۔ جس پر بالآخر سالانہ 30 ملین ڈالر خرچ ہوتا۔ یہ سرکاری بجٹ پر ایک غیر معمولی اضافہ تھا جو اس وقت بھی بہت بڑھ چکا ہے۔ اگر مائیں آزادانہ طور پر روزگار کے سلسلے میں مردوں کا مقابلہ کرتی ہیں تو بہر حال کوئی انتظام ہونا چاہیے جہاں وہ اپنے بچوں کو چھوڑ سکیں، معقول معاوضہ پر جب کہ وہ کام کر رہی ہوں۔ تحریک نسواں سے زیادہ انقلابی لوگ اس پر مطمئن نہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ جنسی عمل میں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page