Urdu book · خاتونِ اسلام

خاتونِ اسلام

Urdu book, p. 86

By Maulana Wahiduddin Khan

ایسی تبدیلی کی جانی چاہیے کہ دونوں صنف پرانے طرز کے بندھنوں اور ذمہ داریوں سے آزاد ہو جائیں۔ یہ تصور کہ مرد کمانے والا فرد ہے اور عورت کا کام گھر سنبھالنا ہے، وہ کہتے ہیں فرسودہ ہے اور دونوں صنفوں کے لیے تباہ کن ہے۔ جدید نسوانی تحریک کے زیادہ انقلابی عناصر محسوس کرتے ہیں کہ ان کی راہ کی رکاوٹ صرف سماج نہیں ہے بلکہ اس سے بڑی رکاوٹ حیاتیاتی محدودیت ہے۔ چنانچہ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ سائنس آف ایوجینکس کے ذریعہ جینٹک کوڈ کو اس طرح بدل دیا جائے کہ نئے قسم کے مرد اور نئی قسم کی عورتیں پیدا ہونے لگیں ۔ خلاصہ یہ کہ یہ انتہا پسند لوگ چاہتے ہیں کہ عورت بشمول جنسی تعلقات، مرد سے مکمل طور پر آزاد ہو جائے۔ جل جانسٹن کے نزدیک نسوانی تحریک در حقیقت اس بات کی تحریک کہ ہم جنسی کا طریقہ رائج کر دیا جائے : یہ اسی وقت کامیاب ہو سکتی ہے جب کوئی عورتیں جنسی تقاضوں کے لیے مردوں کی طرف دیکھنا چھوڑ دے۔ (صفحہ 24) ماسکو کے میگزین اسپئنگ (اکتوبر 1987) کے ایک مضمون کا عنوان ہے ۔ کیا باپوں کو ماں بننا چاہیے: Should Daddies Be Mummies اس کے مطابق ایک جرمن ڈاکٹر نے تبدیلی جنس (sex change) کا نظریہ پیش کیا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ عورت کی بچہ دانی کو نکال کر بذریعہ آپریشن مرد کے پیٹ میں نصب کر دیا جائے تا کہ مرد بھی بچہ پیدا کرنے کا کام کریں اور اس طرح دونوں صنفوں میں فطری عدم مساوات کو ختم کیا جا سکے ۔ امریکا میں خواتین کی ایک تنظیم ہے جس کی شاخیں امریکا کی 42 ریاستوں میں قائم ہیں۔ اس کا مٹو یہ ہے: عورتو، کافی نہ بناؤ، پالیسی بناؤ۔ اس تنظیم کا مقصد عورتوں کو سیاست میں بھر پور شریک کرنا ہے۔ 1960 کے صدارتی الیکشن

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page